Skip to content
احسان دانش احسان دانش

مرے مٹانے کی تدبیر تھی حجاب نہ تھا

مرے مٹانے کی تدبیر تھی حجاب نہ تھا وگرنہ کون سے دن حسن بے نقاب نہ تھا اگرچہ ناز کش ساغر شراب نہ تھا خمار خانے میں مجھ سا کوئی خراب نہ تھا کھلا طلسم تمنا تو کھل گیا یہ بھی کہ اک فریب نظر تھا ترا شباب نہ تھا خیال دوست تری جلوہ تابیوں کی قسم جو تو نہ تھا مری دنیا میں آفتاب نہ تھا ترے فراق کی راتیں تھیں اس قدر مغموم کہ داغ خاطر محزوں تھا ماہتاب نہ تھا برا ہو نالۂ پیہم کا کچھ دنوں پہلے خموش رات کے دل میں یہ پیچ و تاب نہ تھا نگاہ ملتے ہی غش کھا کے گر پڑیں نظریں تھی ایک برق مشکل ترا شباب نہ تھا ازل کے دن سے ہیں ہم مست جلوۂ ساقی ہمارے سامنے کس روز آفتاب نہ تھا کچھ اپنے ساز نفس کی نہ قدر کی تو نے کہ اس رباب سے بہتر کوئی رباب نہ تھا دل خراب کا احسانؔ اب خدا حافظ خراب تھا مگر ایسا کبھی خراب نہ تھا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR