Skip to content
احسان دانش احسان دانش

اگر محبت کے مدعی ہو تو یہ رویہ روا نہیں ہے

اگر محبت کے مدعی ہو تو یہ رویہ روا نہیں ہے جو شکوہ ہے روبرو نہیں ہے جو بات ہے برملا نہیں ہے یہ روز تجدید عہد الفت یہ روز پیمان دل نوازی ہزار تسلیم کر رہا ہوں مگر یقین وفا نہیں ہے ہے تیرے کافر شباب سے خوب میری معصوم مے گساری سرور کی ایک حد ہے قائم غرور کی انتہا نہیں ہے عجب نہیں زحمت وفا سے مجھے کسی دن نجات دے دے یہی مری بے زباں محبت جو در خور اعتنا نہیں ہے نہ جانے کس کس سے دل لگا کر وفا سے مایوس ہو چکا ہوں نظر پریشان شش جہت ہے کوئی بھی درد آشنا نہیں ہے جتا کے مجبوریٔ محبت امید مہر و وفا کے معنی میں خود ہوں اپنا سکون دشمن کسی کی کوئی خطا نہیں ہے بجا بجا بے شمار عارض نظر نظر کو ترس رہے ہیں مگر یہ دل کا معاملہ ہے نگاہ کا واسطہ نہیں ہے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR