Skip to content
احسان دانش احسان دانش

جبیں کی دھول جگر کی جلن چھپائے گا

جبیں کی دھول جگر کی جلن چھپائے گا شروع عشق ہے وہ فطرتاً چھپائے گا دمک رہا ہے جو نس نس کی تشنگی سے بدن اس آگ کو نہ ترا پیرہن چھپائے گا ترا علاج شفا گاہ عصر نو میں نہیں خرد کے گھاؤ تو دیوانہ پن چھپائے گا حصار ضبط ہے ابر رواں کی پرچھائیں ملال روح کو کب تک بدن چھپائے گا نظر کا فرد عمل سے ہے سلسلہ درکار یقیں نہ کر یہ سیاہی کفن چھپائے گا کسے خبر تھی کہ یہ دور خود غرض اک دن جنوں سے قیمت دار و رسن چھپائے گا ترا غبار زمیں پر اترنے والا ہے کہاں تک اب یہ بگولہ تھکن چھپائے گا کھلے گا باد نفس سے جو رخ پہ نیل کنول اسے کہاں ترا اجلا بدن چھپائے گا ترے کمال کے دھبے ترے عروج کے داغ چھپائے گا تو کوئی اہل فن چھپائے گا جسے ہے فیض مری خانقاہ سے دانشؔ وہ کس طرح مرا رنگ سخن چھپائے گا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR