Skip to content
احسان دانش احسان دانش

یوں اس پہ مری عرض تمنا کا اثر تھا

یوں اس پہ مری عرض تمنا کا اثر تھا جیسے کوئی سورج کی تپش میں گل تر تھا اٹھتی تھیں دریچوں پہ ہماری بھی نگاہیں اپنا بھی کبھی شہر نگاراں میں گزر تھا ہم جس کے تغافل کی شکایت کو گئے تھے آنکھ اس نے اٹھائی تو جہاں زیر و زبر تھا شانوں پہ کبھی تھے ترے بھیگے ہوئے رخسار آنکھوں پہ کبھی میری طرح دامن تر تھا خوشبو سے معطر ہے ابھی تک وہ گزر گاہ صدیوں سے یہاں جیسے بہاروں کا نگر تھا ہے ان کے سراپا کی طرح خوش قد و خوش رنگ وہ سرو کا پودا جو سر راہ گزر تھا قطرے کی ترائی میں تھے طوفاں کے نشیمن ذرے کے احاطے میں بگولوں کا بھنور تھا اس آدم خاکی پہ ستاروں کی نظر تھی اس خاک پہ کچھ جلوۂ‌ یزداں کا اثر تھا میں رویا تو ہنسنے کی صدا آئی کئی یار وہ جان تمنا پس دیوار‌ نظر تھا دانشؔ تھا اکہرا مرا پیراہن ہستی بے پردہ زمانے پہ مرا عیب و ہنر تھا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR