Skip to content
احسان دانش احسان دانش

نہ جانے سحر یہ کیا تو نے چشم یار کیا

نہ جانے سحر یہ کیا تو نے چشم یار کیا کہ میں نے ہوش کے جامے کو تار تار کیا فسوں عجیب یہ اے موسم بہار کیا کہ خار زار کو ہم رنگ لالہ زار کیا مہک رہا ہے ہر اک گل کا جامۂ رنگیں صبا نے باغ میں کیا ذکر زلف یار کیا نہ پوچھو پچھلے پہر اپنی یاد کا عالم تمہارا ذکر ستاروں سے بار بار کیا نسیم صبح نے آ کر وہ راگنی چھیڑی ہر ایک پھول نے کانٹے کو جھک کے پیار کیا مرے جہان‌ محبت میں پڑ گئی ہلچل سکون دل نے مجھے اور بے قرار کیا بھر آئے دیدۂ انجم میں اشک مجبوری جگر کو تھام کے جب ہم نے ذکر یار کیا تڑپ کے آبلہ پا ایک بار پھر اٹھے یہ کسی نے تذکرۂ آمد بہار کیا گزر چکی ہیں جو احسانؔ ان کی محفل میں انہیں قرار کی گھڑیوں نے بیقرار کیا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR