جانثار اختر
بیکسی حد سے جب گزر جائے
بیکسی حد سے جب گزر جائے
کوئی اے دل جئے کی مر جائے
زندگی سے کہو دلہن بن کے
آج تو دو گھڑی سنور جائے
ان کو جی بھر کے دیکھ لینے دے
دل کی دھڑکن ذرا ٹھہر جائے
ہم ہیں اپنی ہی جان کے دشمن
کیوں یہ الزام ان کے سر جائے
میرے نغموں سے ان کا دل نہ دکھے
غم نہیں مجھ پہ جو گزر جائے