جانثار اختر
بے مروت بے وفا بیگانۂ دل آپ ہیں
بے مروت بے وفا بیگانۂ دل آپ ہیں
آپ مانیں یا نہ مانیں میرے قاتل آپ ہیں
آپ سے شکوہ ہے مجھ کو غیر سے شکوہ نہیں
جانتی ہوں دل میں رکھ لینے کے قابل آپ ہیں
سانس لیتی ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے مجھے
جیسے میرے دل کی ہر دھڑکن میں شامل آپ ہیں
غم نہیں جو لاکھ طوفانوں سے ٹکرانا پڑے
میں وہ کشتی ہوں کہ جس کشتی کا ساحل آپ ہیں