Skip to content
احمد ندیم قاسمی احمد ندیم قاسمی

طے کروں گا یہ اندھیرا میں اکیلا کیسے

طے کروں گا یہ اندھیرا میں اکیلا کیسے میرے ہم راہ چلے گا مرا سایہ کیسے میری آنکھوں کی چکا چوند بتا سکتی ہے جس کو دیکھا ہی نہ جائے اسے دیکھا کیسے چاندنی اس سے لپٹ جائے ہوائیں کھیلیں کوئی رہ سکتا ہے دنیا میں اچھوتا کیسے میں تو اس وقت سے ڈرتا ہوں کہ وہ پوچھ نہ لے یہ اگر ضبط کا آنسو ہے تو ٹپکا کیسے یاد کے قصر ہیں امید کی قندیلیں ہیں میں نے آباد کیے درد کے صحرا کیسے اس لیے صرف خدا سے ہے تخاطب میرا میرے جذبات کو سمجھے گا فرشتہ کیسے ذہن میں نت نئے بت ڈھال کے یہ دیکھتا ہوں بت کدے کو وہ بنا لیتا ہے کعبہ کیسے گر سمندر ہی سے دریاؤں کا رزق آتا ہے اس کے سینے میں اتر جاتے ہیں دریا کیسے کیسے ہر سانس میں آ جاتا ہوں فردا کے قریب پھر بھی فردا مجھے دے جاتا ہے دھوکا کیسے لوگ جو خاک وطن بیچ کے کھا جاتے ہیں اپنے ہی قتل کا کرتے ہیں تماشا کیسے
احمد ندیم قاسمی

احمد ندیم قاسمی

View profile

احمد ندیم قاسمی مغربی پنجاب کی وادی سون سکیسر کے گاؤں انگہ ضلع خوشاب میں 20؍نومبر1916ء کو پیدا ہوئے۔ اصل نام احمد شاہ اور اعوان برادری سے تعلق رکھتے تھے۔جب کہ ندیم ان کا تخلص تھا۔اپنے پردادا محمد قاسم کی رعایت سے ’’قاسمی‘‘ کہلائے، اِن کے والد پیر غلام نبی اور والدہ غلام بی بی تھیں۔احمد ندیم قاسمی (20 نومبر 1916ء تا 10 جولائی 2006ء) پاکستان کے ایک معروف ادیب، شاعر، افسانہ نگار، صحافی، مدیر اور کالم نگار تھے۔ افسانہ اور شاعری میں شہرت پائی۔ ترقی پسند تحریک سے وابستہ نمایاں مصنفین میں شمار ہوتا تھا اور اسی وجہ سے دو مرتبہ گرفتار کیے گئے۔ قاسمی صاحب نے طویل عمر پائی اور لگ بھگ نوّے سال کی عمر میں انھوں نے پچاس سے زائد کتابیں تصنیف کیں۔آپ کے والد پیر غلام نبی مرحوم اپنی عبادت، زہد اور تقویٰ کی وجہ سے اہل اللہ میں شمار ہوتے تھے۔ ندیم کی ابتدائی تعلیم گاؤں میں ہوئی۔ 1920ء میں انگہ کی مسجد میں قرآن مجید کا درس لیا۔ 1923ء میں والد کے انتقال کے بعد اپنے چچا حیدر شاہ کے پاس کیمبل پور چلے گئے۔ وہاں مذہبی، عملی اور شاعرانہ ماحول میسر آیا۔ 1921ء - 1925ء میں گورنمنٹ مڈل اینڈ نارمل اسکول کیمبل پور (اٹک) میں تعلیم پائی۔ 1930ء-1931ء میں گورنمنٹ ہائی اسکول شیخو پورہ سے میٹرک کیا اور 1931ء صادق ایجرٹن کالج بہاولپور میں داخل ہو گئے جہاں سے 1935ء میں بی اے کیا۔قاسمی صاحب کی شاعری کی ابتدا 1931ء میں ہوئی تھی جب مولانا محمد علی جوہر کے انتقال پر ان کی پہلی نظم روزنامہ سیاست لاہور کے سرورق پر شائع ہوئی اور یہ ان کے لیے بہت بڑا اعزاز تھا۔ یہی نہیں بعد میں بھی 1934ء اور 1937ء کے دوران ان کی متعدد نظمیں روزنامہ انقلاب لاہور اور زمیندار لاہور کے سرورق پر شائع ہوتی رہیں اور اس سے انہیں عالمِ نوجوانی میں ہی غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR