احمد ندیم قاسمی
سورج کو نکلنا ہے سو نکلے گا دوبارہ
سورج کو نکلنا ہے سو نکلے گا دوبارہ
اب دیکھیے کب ڈوبتا ہے صبح کا تارہ
مغرب میں جو ڈوبے اسے مشرق ہی نکالے
میں خوب سمجھتا ہوں مشیت کا اشارہ
پڑھتا ہوں جب اس کو تو ثنا کرتا ہوں رب کی
انسان کا چہرہ ہے کہ قرآن کا پارہ
جی ہار کے تم پار نہ کر پاؤ ندی بھی
ویسے تو سمندر کا بھی ہوتا ہے کنارہ
جنت ملی جھوٹوں کو اگر جھوٹ کے بدلے
سچوں کو سزا میں ہے جہنم بھی گوارا
یہ کون سا انصاف ہے اے عرش نشینو
بجلی جو تمہاری ہے تو خرمن ہے ہمارا
مستقبل انسان نے اعلان کیا ہے
آئندہ سے بے تاج رہے گا سر دارا