Skip to content
احمد ندیم قاسمی احمد ندیم قاسمی

کھڑا تھا کب سے زمیں پیٹھ پر اٹھائے ہوئے

کھڑا تھا کب سے زمیں پیٹھ پر اٹھائے ہوئے آب آدمی ہے قیامت سے لو لگائے ہوئے یہ دشت سے امڈ آیا ہے کس کا سیل جنوں کہ حسن شہر کھڑا ہے نقاب اٹھائے ہوئے یہ بھید تیرے سوا اے خدا کسے معلوم عذاب ٹوٹ پڑے مجھ پہ کس کے لائے ہوئے یہ سیل آب نہ تھا زلزلہ تھا پانی کا بکھر بکھر گئے قریے مرے بسائے ہوئے عجب تضاد میں کاٹا ہے زندگی کا سفر لبوں پہ پیاس تھی بادل تھے سر پہ چھائے ہوئے سحر ہوئی تو کوئی اپنے گھر میں رک نہ سکا کسی کو یاد نہ آئے دیے جلائے ہوئے خدا کی شان کہ منکر ہیں آدمیت کے خود اپنی سکڑی ہوئی ذات کے ستائے ہوئے جو آستین چڑھائیں بھی مسکرائیں بھی وہ لوگ ہیں مرے برسوں کے آزمائے ہوئے یہ انقلاب تو تعمیر کے مزاج میں ہے گرائے جاتے ہیں ایواں بنے بنائے ہوئے یہ اور بات مرے بس میں تھی نہ گونج اس کی مجھے تو مدتیں گزریں یہ گیت گائے ہوئے مری ہی گود میں کیوں کٹ کے گر پڑے ہیں ندیمؔ ابھی دعا کے لیے تھے جو ہاتھ اٹھائے ہوئے
احمد ندیم قاسمی

احمد ندیم قاسمی

View profile

احمد ندیم قاسمی مغربی پنجاب کی وادی سون سکیسر کے گاؤں انگہ ضلع خوشاب میں 20؍نومبر1916ء کو پیدا ہوئے۔ اصل نام احمد شاہ اور اعوان برادری سے تعلق رکھتے تھے۔جب کہ ندیم ان کا تخلص تھا۔اپنے پردادا محمد قاسم کی رعایت سے ’’قاسمی‘‘ کہلائے، اِن کے والد پیر غلام نبی اور والدہ غلام بی بی تھیں۔احمد ندیم قاسمی (20 نومبر 1916ء تا 10 جولائی 2006ء) پاکستان کے ایک معروف ادیب، شاعر، افسانہ نگار، صحافی، مدیر اور کالم نگار تھے۔ افسانہ اور شاعری میں شہرت پائی۔ ترقی پسند تحریک سے وابستہ نمایاں مصنفین میں شمار ہوتا تھا اور اسی وجہ سے دو مرتبہ گرفتار کیے گئے۔ قاسمی صاحب نے طویل عمر پائی اور لگ بھگ نوّے سال کی عمر میں انھوں نے پچاس سے زائد کتابیں تصنیف کیں۔آپ کے والد پیر غلام نبی مرحوم اپنی عبادت، زہد اور تقویٰ کی وجہ سے اہل اللہ میں شمار ہوتے تھے۔ ندیم کی ابتدائی تعلیم گاؤں میں ہوئی۔ 1920ء میں انگہ کی مسجد میں قرآن مجید کا درس لیا۔ 1923ء میں والد کے انتقال کے بعد اپنے چچا حیدر شاہ کے پاس کیمبل پور چلے گئے۔ وہاں مذہبی، عملی اور شاعرانہ ماحول میسر آیا۔ 1921ء - 1925ء میں گورنمنٹ مڈل اینڈ نارمل اسکول کیمبل پور (اٹک) میں تعلیم پائی۔ 1930ء-1931ء میں گورنمنٹ ہائی اسکول شیخو پورہ سے میٹرک کیا اور 1931ء صادق ایجرٹن کالج بہاولپور میں داخل ہو گئے جہاں سے 1935ء میں بی اے کیا۔قاسمی صاحب کی شاعری کی ابتدا 1931ء میں ہوئی تھی جب مولانا محمد علی جوہر کے انتقال پر ان کی پہلی نظم روزنامہ سیاست لاہور کے سرورق پر شائع ہوئی اور یہ ان کے لیے بہت بڑا اعزاز تھا۔ یہی نہیں بعد میں بھی 1934ء اور 1937ء کے دوران ان کی متعدد نظمیں روزنامہ انقلاب لاہور اور زمیندار لاہور کے سرورق پر شائع ہوتی رہیں اور اس سے انہیں عالمِ نوجوانی میں ہی غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR