Skip to content
احمد ندیم قاسمی احمد ندیم قاسمی

کہیں وہ میری محبت میں گھل رہا ہی نہ ہو

کہیں وہ میری محبت میں گھل رہا ہی نہ ہو خدا کرے اسے یہ تجربہ ہوا ہی نہ ہو سپردگی مرا معیار تو نہیں لیکن میں سوچتا ہوں ترے روپ میں خدا ہی نہ ہو میں تجھ کو پا کے بھی کس شخص کی تلاش میں ہوں مرے خیال میں کوئی ترے سوا ہی نہ ہو وہ عذر کر کہ مرے دل کو بھی یقیں آئے وہ گیت گا کہ جو میں نے کبھی سنا ہی نہ ہو وہ بات کر جسے پھیلا کے میں غزل کہہ لوں سناؤں شعر جو میں نے ابھی لکھا ہی نہ ہو سحر کو دل کی طرف یہ دھواں سا کیسا ہے کہیں یہ میرا دیا رات بھر جلا ہی نہ ہو ہو کیسے جبر مشیت کو اس دعا کا لحاظ جو ایک بار ملے پھر کبھی جدا ہی نہ ہو یہ ابر و کشت کی دنیا میں کیسے ممکن ہے کہ عمر بھر کی وفا کا کوئی صلہ ہی نہ ہو مری نگاہ میں وہ پیڑ بھی ہے بد کردار لدا ہوا ہو جو پھل سے مگر جھکا ہی نہ ہو جو دشت دشت سے پھولوں کی بھیک مانگتا تھا کہیں وہ توڑ کے کشکول مر گیا ہی نہ ہو طلوع صبح نے چمکا دئے ہیں ابر کے چاک ندیمؔ یہ مرا دامان مدعا ہی نہ ہو
احمد ندیم قاسمی

احمد ندیم قاسمی

View profile

احمد ندیم قاسمی مغربی پنجاب کی وادی سون سکیسر کے گاؤں انگہ ضلع خوشاب میں 20؍نومبر1916ء کو پیدا ہوئے۔ اصل نام احمد شاہ اور اعوان برادری سے تعلق رکھتے تھے۔جب کہ ندیم ان کا تخلص تھا۔اپنے پردادا محمد قاسم کی رعایت سے ’’قاسمی‘‘ کہلائے، اِن کے والد پیر غلام نبی اور والدہ غلام بی بی تھیں۔احمد ندیم قاسمی (20 نومبر 1916ء تا 10 جولائی 2006ء) پاکستان کے ایک معروف ادیب، شاعر، افسانہ نگار، صحافی، مدیر اور کالم نگار تھے۔ افسانہ اور شاعری میں شہرت پائی۔ ترقی پسند تحریک سے وابستہ نمایاں مصنفین میں شمار ہوتا تھا اور اسی وجہ سے دو مرتبہ گرفتار کیے گئے۔ قاسمی صاحب نے طویل عمر پائی اور لگ بھگ نوّے سال کی عمر میں انھوں نے پچاس سے زائد کتابیں تصنیف کیں۔آپ کے والد پیر غلام نبی مرحوم اپنی عبادت، زہد اور تقویٰ کی وجہ سے اہل اللہ میں شمار ہوتے تھے۔ ندیم کی ابتدائی تعلیم گاؤں میں ہوئی۔ 1920ء میں انگہ کی مسجد میں قرآن مجید کا درس لیا۔ 1923ء میں والد کے انتقال کے بعد اپنے چچا حیدر شاہ کے پاس کیمبل پور چلے گئے۔ وہاں مذہبی، عملی اور شاعرانہ ماحول میسر آیا۔ 1921ء - 1925ء میں گورنمنٹ مڈل اینڈ نارمل اسکول کیمبل پور (اٹک) میں تعلیم پائی۔ 1930ء-1931ء میں گورنمنٹ ہائی اسکول شیخو پورہ سے میٹرک کیا اور 1931ء صادق ایجرٹن کالج بہاولپور میں داخل ہو گئے جہاں سے 1935ء میں بی اے کیا۔قاسمی صاحب کی شاعری کی ابتدا 1931ء میں ہوئی تھی جب مولانا محمد علی جوہر کے انتقال پر ان کی پہلی نظم روزنامہ سیاست لاہور کے سرورق پر شائع ہوئی اور یہ ان کے لیے بہت بڑا اعزاز تھا۔ یہی نہیں بعد میں بھی 1934ء اور 1937ء کے دوران ان کی متعدد نظمیں روزنامہ انقلاب لاہور اور زمیندار لاہور کے سرورق پر شائع ہوتی رہیں اور اس سے انہیں عالمِ نوجوانی میں ہی غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR