Skip to content
احمد ندیم قاسمی احمد ندیم قاسمی

احساس میں پھول کھل رہے ہیں

احساس میں پھول کھل رہے ہیں پت جھڑ کے عجیب سلسلے ہیں کچھ اتنی شدید تیرگی ہے آنکھوں میں ستارے تیرتے ہیں دیکھیں تو ہوا جمی ہوئی ہے سوچیں تو درخت جھومتے ہیں سقراط نے زہر پی لیا تھا ہم نے جینے کے دکھ سہے ہیں ہم تجھ سے بگڑ کے جب بھی اٹھے پھر تیرے حضور آ گئے ہیں ہم عکس ہیں ایک دوسرے کا چہرے یہ نہیں ہیں آئنے ہیں لمحوں کا غبار چھا رہا ہے یادوں کے چراغ جل رہے ہیں سورج نے گھنے صنوبروں میں جالے سے شعاعوں کے بنے ہیں یکساں ہیں فراق و وصل دونوں یہ مرحلے ایک سے کڑے ہیں پا کر بھی تو نیند اڑ گئی تھی کھو کر بھی تو رت جگے ملے ہیں جو دن تری یاد میں کٹے تھے ماضی کے کھنڈر بنے کھڑے ہیں جب تیرا جمال ڈھونڈتے تھے اب تیرا خیال ڈھونڈتے ہیں ہم دل کے گداز سے ہیں مجبور جب خوش بھی ہوئے تو روئے ہیں ہم زندہ ہیں اے فراق کی رات پیاری ترے بال کیوں کھلے ہیں
احمد ندیم قاسمی

احمد ندیم قاسمی

View profile

احمد ندیم قاسمی مغربی پنجاب کی وادی سون سکیسر کے گاؤں انگہ ضلع خوشاب میں 20؍نومبر1916ء کو پیدا ہوئے۔ اصل نام احمد شاہ اور اعوان برادری سے تعلق رکھتے تھے۔جب کہ ندیم ان کا تخلص تھا۔اپنے پردادا محمد قاسم کی رعایت سے ’’قاسمی‘‘ کہلائے، اِن کے والد پیر غلام نبی اور والدہ غلام بی بی تھیں۔احمد ندیم قاسمی (20 نومبر 1916ء تا 10 جولائی 2006ء) پاکستان کے ایک معروف ادیب، شاعر، افسانہ نگار، صحافی، مدیر اور کالم نگار تھے۔ افسانہ اور شاعری میں شہرت پائی۔ ترقی پسند تحریک سے وابستہ نمایاں مصنفین میں شمار ہوتا تھا اور اسی وجہ سے دو مرتبہ گرفتار کیے گئے۔ قاسمی صاحب نے طویل عمر پائی اور لگ بھگ نوّے سال کی عمر میں انھوں نے پچاس سے زائد کتابیں تصنیف کیں۔آپ کے والد پیر غلام نبی مرحوم اپنی عبادت، زہد اور تقویٰ کی وجہ سے اہل اللہ میں شمار ہوتے تھے۔ ندیم کی ابتدائی تعلیم گاؤں میں ہوئی۔ 1920ء میں انگہ کی مسجد میں قرآن مجید کا درس لیا۔ 1923ء میں والد کے انتقال کے بعد اپنے چچا حیدر شاہ کے پاس کیمبل پور چلے گئے۔ وہاں مذہبی، عملی اور شاعرانہ ماحول میسر آیا۔ 1921ء - 1925ء میں گورنمنٹ مڈل اینڈ نارمل اسکول کیمبل پور (اٹک) میں تعلیم پائی۔ 1930ء-1931ء میں گورنمنٹ ہائی اسکول شیخو پورہ سے میٹرک کیا اور 1931ء صادق ایجرٹن کالج بہاولپور میں داخل ہو گئے جہاں سے 1935ء میں بی اے کیا۔قاسمی صاحب کی شاعری کی ابتدا 1931ء میں ہوئی تھی جب مولانا محمد علی جوہر کے انتقال پر ان کی پہلی نظم روزنامہ سیاست لاہور کے سرورق پر شائع ہوئی اور یہ ان کے لیے بہت بڑا اعزاز تھا۔ یہی نہیں بعد میں بھی 1934ء اور 1937ء کے دوران ان کی متعدد نظمیں روزنامہ انقلاب لاہور اور زمیندار لاہور کے سرورق پر شائع ہوتی رہیں اور اس سے انہیں عالمِ نوجوانی میں ہی غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR