Skip to content
شان الحق حقی شان الحق حقی

جو ہو ورائے ذات وہ جینا ہی اور ہے

جو ہو ورائے ذات وہ جینا ہی اور ہے جینے کا اہل دل کے قرینہ ہی اور ہے تم سکۂ رواں کی ہوس میں ہو تم کو کیا جویا ہیں جن کے ہم وہ خزینہ ہی اور ہے ہم ساحل نجات پہ کشتی جلا چکے اب رہنما کوئی نہ سفینہ ہی اور ہے لکھ کر دیا تھا اس نے جو وعدہ وصال کا اس میں کوئی نیا سا مہینہ ہی اور ہے پھینکی نہ جانے اس نے مری قاش دل کہاں انگشتری میں اب تو نگینہ ہی اور ہے پہنچا سنبھل سنبھل کے سر بام تب کھلا منزل نہیں یہ اس کی یہ زینہ ہی اور ہے وہ دن گئے کہ سوتے تھے ہم بھی پسارے پاؤں مدت سے اب تو شغل شبینہ ہی اور ہے حقیؔ یہ اپنا چشمۂ رنگیں اتارئیے دیکھیں گے پھر کہ دیدۂ بینا ہی اور ہے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR