Skip to content
شان الحق حقی شان الحق حقی

نغمہ یوں ساز میں تڑپا مری جاں ہو جیسے

نغمہ یوں ساز میں تڑپا مری جاں ہو جیسے میرا دم ہو مرے سینے کی فغاں ہو جیسے یک بیک روح میں اٹھا ہے وہ طوفان خموش وادئ گل میں نسیم گزراں ہو جیسے نغمہ‌‌ و رقص ہوئی جاتی ہے ہر موج خیال چاندنی رات میں دریا کا سماں ہو جیسے کیا سناتی ہے یہ سازوں کی صدائے دل سوز کچھ ہمیں درد نصیبوں کا بیاں ہو جیسے یوں تری چشم مدارات پہ دل بھولا ہے نشۂ مے پہ جوانی کا گماں ہو جیسے دل ہے یوں بے دلیٔ ہوش کے ہاتھوں لرزاں کوئی قاتل سے طلب گار اماں ہو جیسے راہ جینے کی کہاں سوختہ جانی کے بغیر ہر نفس شعلۂ خاطر کا دھواں ہو جیسے خوب نقشہ ہے مرے فکر کی جولانی کا کوئی کم بخت اسیری میں جواں ہو جیسے اس نے یوں عرض محبت پہ سنبھل کر دیکھا اس کے دل کو تو خبر ہو نہ گماں ہو جیسے اک نوا حاصل‌ صد عہد فغاں ہے حقیؔ بوئے گل لاکھ بہاروں کا نشاں ہو جیسے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR