Skip to content
شان الحق حقی شان الحق حقی

پائی نہ کوئی منزل پہنچیں نہ کہیں راہیں

پائی نہ کوئی منزل پہنچیں نہ کہیں راہیں بھٹکا کے رہیں مجھ کو آوارہ گزر گاہیں آلام زمانہ سے چھوٹیں تو تجھے چاہیں مصروف مشقت ہیں حسرت سے بھری بانہیں صحرا ہی سے گزری تھیں کھوئی گئیں جو راہیں بتلائیں گے یہ چشمے یہ بن یہ چراگاہیں شمشیر کی زد پر ہیں کچھ اور ہمیں جیسے ہنگام تقاضا کیا اے دل وہ جسے چاہیں کیا روپ بدلتے ہیں تصویر میں ڈھلتے ہیں آنکھوں میں رکے آنسو سینے میں دبی آہیں اب کون کہے تارا ٹوٹا تو کہاں پہنچا آزاد کی ہر دنیا برباد کی سو راہیں اب نام غم دل کا تصویر و قلم تک ہے طوفاں نے سفینوں میں ڈھونڈی ہیں پنہ گاہیں تشہیر جنوں کہیے یا ذوق سخن حقیؔ ارزاں ہیں مرے آنسو رسوا ہیں مری آہیں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR