Skip to content
شان الحق حقی شان الحق حقی

محبت خار دامن بن کے رسوا ہو گئی آخر

محبت خار دامن بن کے رسوا ہو گئی آخر یہ اقلیم عزیزاں بے زلیخا ہو گئی آخر بساط آرزو تصویر صحرا ہو گئی آخر وہ ہنگاموں کی بستی ہو کی دنیا ہو گئی آخر نشان صبح یوں گم ہے کہ اب نکلے نہ جب نکلے ادھر انداز شب ایسا کہ گویا ہو گئی آخر مری آنکھوں کا بس اک خواب تھی وہ حسرت پنہاں جو خود ان کی نگاہوں کا تقاضا ہو گئی آخر قلم کو ہے اسی صورت کدے کی جستجو یعنی کہیں پنہاں تھی وہ صورت جو پیدا ہو گئی آخر فقط ایماں ہی کیا پامال ہیں ایماں شکن لاکھوں دلوں کی وہ متاع کافری کیا ہو گئی آخر نمود صبح وعدہ سے تو خیر امید ہی کیا تھی وہ فرقت کی شب ہنگامہ آرا ہو گئی آخر کبھی یہ لرزشیں ساز آشنا ہوں گی تو دیکھو گے دلوں کی بے کلی آشوب دریا ہو گئی آخر ہم اپنے چاک دامن پر بہت رسوا رہے حقیؔ نظر آئین محفل سے شناسا ہو گئی آخر

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR