Skip to content
شان الحق حقی شان الحق حقی

ایمائے غزل کرتی ہیں موسم کی ادائیں

ایمائے غزل کرتی ہیں موسم کی ادائیں اک موج ترنم کی ہوس میں ہیں فضائیں نغموں کی زباں میں کوئی سمجھے تو بتائیں کیا چیز ہے یہ طرز یہ طرحیں یہ ادائیں روکے نہ گئے سینۂ خارا سے وہ طوفاں ہیں جن کو کناروں میں لئے ننگ قبائیں آئینے سے ہوتی ہیں صلاحیں کہ کسی کو جب خوب مٹانا ہو تو کس طرح مٹائیں ایسی ہی ترے شہر میں ہوتی ہے مروت ایسی ہی مرے دیس میں ہوتی ہیں وفائیں دیکھے کوئی افلاک کا یہ جوش تباہی تنکے کو ڈرنا ہو تو طوفان اٹھائیں ٹھہرا ہوں اسی بات پہ میں لائق تعزیر جس بات پہ بخشی گئیں اوروں کی خطائیں دیوانوں کو دنیا سے الجھنے کی کہاں تاب فرصت ہو تو اک اور ہی دنیا نہ بنائیں یہ کون سے زنداں کی گرائی گئی دیوار یہ کون سی تعمیر کی اٹھتی ہیں بنائیں اے مسکن خوبان زماں شہر عزیزاں ہم بھی کبھی بکنے ترے بازار میں آئیں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR