Skip to content
شان الحق حقی شان الحق حقی

اے دل اب اور کوئی قصۂ دنیا نہ سنا

اے دل اب اور کوئی قصۂ دنیا نہ سنا چھیڑ دے ذکر وفا ہاں کوئی افسانہ سنا غیبت دہر بہت گوش گنہ گار میں ہے کچھ غم عشق کے اوصاف کریمانہ سنا کار دیروز ابھی آنکھوں سے کہاں سمٹا ہے خوں رلانے کے لیے قصۂ فردا نہ سنا دامن باد کو ہے دولت شبنم کافی روح کو ذکر تنک بخشئ دریا نہ سنا سنتے ہیں اس میں وہ جادہ ہے کہ دل چیز ہے کیا سنتے ہیں اس پہ وہ عالم ہے کہ دیکھا نہ سنا گوش بے ہوش وہ کیا جس نے کہ ہنگام نوا کوئی نالہ ہی لب نے سے نکلتا نہ سنا ہم نشیں پردگئی راز اسے کہتے ہیں لب ساغر سے کسی رند کا چرچا نہ سنا کچھ عجب چال سے جاتا ہے زمانہ اب کے حشر دیکھے ہیں مگر حشر کا غوغا نہ سنا بڑھ گیا روز قیامت سے شب غم کا سکوت جسم آدم میں کہیں دل ہی دھڑکتا نہ سنا نوحۂ غم کوئی اس بزم میں چھیڑے کیونکر جس نے گیتوں کو بھی با خاطر بیگانہ سنا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR