جگن ناتھ آزاد
اے دل ناداں متاع کم نگاہی پر نہ جا
اے دل ناداں متاع کم نگاہی پر نہ جا
اور بھی کچھ دیکھ جسموں کی ادا ہی پر نہ جا
دل میں جو پوشیدہ ہے وہ حسرت تعمیر دیکھ
دیکھنے والے مرے دل کی تباہی پر نہ جا
یہ تو ہے میری طبیعت یہ تو ہے میرا مزاج
میں ترا بندہ ہوں میری کج کلاہی پر نہ جا
میری نیت کو پرکھ میرے عمل کو تو نہ دیکھ
میرے دامن پر ہے جو تو اس سیاہی پر نہ جا
ہوں سراپا جرم چہرے پر جو آتی ہے نظر
داور محشر مری اس بے گناہی پر نہ جا
کل اسی ظلمت سے ہی پھوٹیں گی کرنیں نور کی
یہ جو بڑھتی آ رہی ہے اس سیاہی پر نہ جا
چار دن کا کھیل ہے عالم پناہی کا یہ کھیل
چشم بینا سطوت عالم پناہی پر نہ جا