Skip to content
امیر مینائی امیر مینائی

ترا کیا کام اب دل میں غم جانانہ آتا ہے

ترا کیا کام اب دل میں غم جانانہ آتا ہے نکل اے صبر اس گھر سے کہ صاحب خانہ آتا ہے نظر میں تیری آنکھیں سر میں سودا تیری زلفوں کا کئی پریوں کے سائے میں ترا دیوانہ آتا ہے وفور رحمت باری ہے مے خواروں پہ ان روزوں جدھر سے ابر اٹھتا ہے سوئے مے خانہ آتا ہے لگی دل کی بجھائے بیکسی میں کون ہے ایسا مگر اک گریۂ حسرت کہ بے تابانہ آتا ہے انہیں سے غمزے کرتی ہے جو تجھ پر جان دیتے ہیں اجل تجھ کو بھی کتنا ناز معشوقانہ آتا ہے پریشانی میں یہ عالم تری زلفوں کا دیکھا ہے کہ اک اک بال پر قربان ہونے شانہ آتا ہے چھلک جاتا ہے جام عمر اپنا وائے ناکامی ہمارے منہ تلک ساقی اگر پیمانہ آتا ہے وہ بت ہی مہرباں سب اپنا اپنا حال کہتے ہیں لب خاموش تجھ کو بھی کوئی افسانہ آتا ہے طلسم تازہ تیرا سایۂ دیوار رکھتا ہے بدلتا ہے پری کا بھیس جو دیوانہ آتا ہے یہ عظمت رہ کے زاہد ان بتوں میں ہم نے پائی ہے کہ کعبہ ہم کو لینے تا در مے خانہ آتا ہے دو رنگی سے نہیں خالی عدم بھی صورت ہستی کوئی ہشیار آتا ہے کوئی دیوانہ آتا ہے ہما یوں استخوان سوختہ پر میرے گرتا ہے تڑپ کر شمع پر جیسے کوئی پروانہ آتا ہے ادھر ہیں حسن کی گھاتیں ادھر ہیں عشق کی باتیں تجھے افسوں تو مجھ کو اسے پری افسانہ آتا ہے کلیجا ہاتھ سے اہل طمع کے چاک ہوتا ہے صدف آسا اگر مجھ کو میسر دانہ آتا ہے نمک جلاد چھڑکا چاہتا ہے میرے زخموں پر مزے کا وقت اب اے ہمت مردانہ آتا ہے زبردستی کا دھڑکا وصل میں تم کو سمایا ہے کدھر ہو ہوش میں آؤ کوئی آیا نہ آتا ہے الٰہی کس کی شمع حسن سے روشن ہے گھر میرا کہ بن جاتا ہے جگنو آج جو پروانہ آتا ہے وہ عاشق خال و خط کا ہوں نذر مور کرتا ہوں میسر تیسرے دن بھی جو مجھ کو دانہ آتا ہے امیرؔ اور آنے والا کون ہے گور غریباں پر جو روشن شمع ہوتی ہے تو ہاں پروانہ آتا ہے
امیر مینائی

امیر مینائی

View profile

امیر احمد مینائی نام اور امیر تخلص تھا، 21 فروری 1829ء کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے، مخدوم شاہ مینا کے خاندان سے تعلق تھا اس لئے مینائی کہلائے، طب، جفر اور نجوم سے واقف تھے، اپنے علم و فضل اور قابلیت میں اپنے معاصرین سے ممتاز تھے، شعروسخن کا شوق بچپن سے تھا۔ مظفر علی اسیر سے تلمذ حاصل تھا، 1852ء میں واجد علی شاہ کے دربار سے تعلق قائم ہوا اور ان کے حکم سے دو کتابیں’’ارشاد السلطان‘‘ اور ’’ہدایت السلطان‘‘ تصنیف کیں، 1857ء کے ہنگامے کے بعد رام پور چلے گئے، نواب یوسف علی خاں والئ رام پور کے انتقال کے بعد نواب کلب علی خاں نے انھیں اپنا استاد مقرر کیا، رام پور میں 63 برس بڑی عزت و آرام سے زندگی بسر کی اور تصنیف و تالیف میں مشغول رہے، نواب کلب علی خاں کے انتقال کے بعد داغ دہلوی کے ایما پر امیر مینائی حیدر آباد گئے اور وہیں 13 اکتوبر 1900ء کو انتقال ہو.’’مرآۃ الغیب‘‘ اور ’’صنم خانۂ عشق‘‘ دو دیوان ان کی یادگار ہیں، تیسرا دیوان ’’محامد خاتم النبیین‘‘ نعت کا مجموعہ ہے،’’امیر اللغات‘‘ کی صرف دوجلدیں الف ممدودہ اور الف مقصورہ شائع ہوئیں، اس کے علاوہ ان کی نثرونظم میں معتدد تصانیف ہیں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR