Skip to content
امیر مینائی امیر مینائی

پوچھا نہ جائے گا جو وطن سے نکل گیا

پوچھا نہ جائے گا جو وطن سے نکل گیا بیکار ہے جو دانت دہن سے نکل گیا ٹھہریں کبھی کجوں میں نہ دم بھر بھی راست رو آیا کماں میں تیر تو سن سے نکل گیا خلعت پہن کے آنے کی تھی گھر میں آرزو یہ حوصلہ بھی گور و کفن سے نکل گیا پہلو میں میرے دل کو نہ اے درد کر تلاش مدت ہوئی غریب وطن سے نکل گیا مرغان باغ تم کو مبارک ہو سیر گل کانٹا تھا ایک میں سو چمن سے نکل گیا کیا رنگ تیری زلف کی بو نے اڑا دیا کافور ہو کے مشک ختن سے نکل گیا پیاسا ہوں اس قدر کہ مرا دل جو گر پڑا پانی ابل کے چاہ ذقن سے نکل گیا سارا جہان نام کے پیچھے تباہ ہے انسان کیا عقیق یمن سے نکل گیا کانٹوں نے بھی نہ دامن گلچیں پکڑ لیا بلبل کو ذبح کر کے چمن سے نکل گیا کیا شوق تھا جو یاد سگ یار نے کیا ہر استخواں تڑپ کے بدن سے نکل گیا اے سبزہ رنگ خط بھی بنا اب تو بوسہ دے بیگانہ تھا جو سبزہ چمن سے نکل گیا منظور عشق کو جو ہوا اوج حسن پر قمری کا نالہ سرو چمن سے نکل گیا مد نظر رہی ہمیں ایسی رضائے دوست کاٹی زباں جو شکوہ دہن سے نکل گیا طاؤس نے دکھائے جو اپنے بدن کے داغ روتا ہوا سحاب چمن سے نکل گیا صحرا میں جب ہوئی مجھے خوش چشموں کی تلاش کوسوں میں آہوان ختن سے نکل گیا خنجر کھنچا جو میان سے چمکا میان صف جوہر کھلے جو مرد وطن سے نکل گیا میں شعر پڑھ کے بزم سے کیا اٹھ گیا امیرؔ بلبل چہک کے صحن چمن سے نکل گیا
امیر مینائی

امیر مینائی

View profile

امیر احمد مینائی نام اور امیر تخلص تھا، 21 فروری 1829ء کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے، مخدوم شاہ مینا کے خاندان سے تعلق تھا اس لئے مینائی کہلائے، طب، جفر اور نجوم سے واقف تھے، اپنے علم و فضل اور قابلیت میں اپنے معاصرین سے ممتاز تھے، شعروسخن کا شوق بچپن سے تھا۔ مظفر علی اسیر سے تلمذ حاصل تھا، 1852ء میں واجد علی شاہ کے دربار سے تعلق قائم ہوا اور ان کے حکم سے دو کتابیں’’ارشاد السلطان‘‘ اور ’’ہدایت السلطان‘‘ تصنیف کیں، 1857ء کے ہنگامے کے بعد رام پور چلے گئے، نواب یوسف علی خاں والئ رام پور کے انتقال کے بعد نواب کلب علی خاں نے انھیں اپنا استاد مقرر کیا، رام پور میں 63 برس بڑی عزت و آرام سے زندگی بسر کی اور تصنیف و تالیف میں مشغول رہے، نواب کلب علی خاں کے انتقال کے بعد داغ دہلوی کے ایما پر امیر مینائی حیدر آباد گئے اور وہیں 13 اکتوبر 1900ء کو انتقال ہو.’’مرآۃ الغیب‘‘ اور ’’صنم خانۂ عشق‘‘ دو دیوان ان کی یادگار ہیں، تیسرا دیوان ’’محامد خاتم النبیین‘‘ نعت کا مجموعہ ہے،’’امیر اللغات‘‘ کی صرف دوجلدیں الف ممدودہ اور الف مقصورہ شائع ہوئیں، اس کے علاوہ ان کی نثرونظم میں معتدد تصانیف ہیں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR