Skip to content
امیر مینائی امیر مینائی

کہا جو میں نے کہ یوسف کو یہ حجاب نہ تھا

کہا جو میں نے کہ یوسف کو یہ حجاب نہ تھا تو ہنس کے بولے وہ منہ قابل نقاب نہ تھا شب وصال بھی وہ شوخ بے حجاب نہ تھا نقاب الٹ کے بھی دیکھا تو بے نقاب نہ تھا لپٹ کے چوم لیا منہ مٹا دیا ان کا نہیں کا ان کے سوا اس کے کچھ جواب نہ تھا مرے جنازے پہ اب آتے شرم آتی ہے حلال کرنے کو بیٹھے تھے جب حجاب نہ تھا نصیب جاگ اٹھے سو گئے جو پاؤں مرے تمہارے کوچے سے بہتر مقام خواب نہ تھا غضب کیا کہ اسے تو نے محتسب توڑا ارے یہ دل تھا مرا شیشۂ شراب نہ تھا زمانہ وصل میں لیتا ہے کروٹیں کیا کیا فراق یار کے دن ایک انقلاب نہ تھا تمہیں نے قتل کیا ہے مجھے جو تنتے ہو اکیلے تھے ملک الموت ہم رکاب نہ تھا دعائے توبہ بھی ہم نے پڑھی تو مے پی کر مزہ ہی ہم کو کسی شے کا بے شراب نہ تھا میں روئے یار کا مشتاق ہو کے آیہ تھا ترے جمال کا شیدا تو اے نقاب نہ تھا بیان کی جو شب غم کی بیکسی تو کہا جگر میں درد نہ تھا دل میں اضطراب نہ تھا وہ بیٹھے بیٹھے جو دے بیٹھے قتل عام کا حکم ہنسی تھی ان کی کسی پر کوئی عتاب نہ تھا جو لاش بھیجی تھی قاصد کی بھیجتے خط بھی رسید وہ تو مرے خط کی تھی جواب نہ تھا سرور قتل سے تھی ہاتھ پاؤں کو جنبش وہ مجھ پہ وجد کا عالم تھا اضطراب نہ تھا ثبات بحر جہاں میں نہیں کسی کو امیرؔ ادھر نمود ہوا اور ادھر حباب نہ تھا
امیر مینائی

امیر مینائی

View profile

امیر احمد مینائی نام اور امیر تخلص تھا، 21 فروری 1829ء کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے، مخدوم شاہ مینا کے خاندان سے تعلق تھا اس لئے مینائی کہلائے، طب، جفر اور نجوم سے واقف تھے، اپنے علم و فضل اور قابلیت میں اپنے معاصرین سے ممتاز تھے، شعروسخن کا شوق بچپن سے تھا۔ مظفر علی اسیر سے تلمذ حاصل تھا، 1852ء میں واجد علی شاہ کے دربار سے تعلق قائم ہوا اور ان کے حکم سے دو کتابیں’’ارشاد السلطان‘‘ اور ’’ہدایت السلطان‘‘ تصنیف کیں، 1857ء کے ہنگامے کے بعد رام پور چلے گئے، نواب یوسف علی خاں والئ رام پور کے انتقال کے بعد نواب کلب علی خاں نے انھیں اپنا استاد مقرر کیا، رام پور میں 63 برس بڑی عزت و آرام سے زندگی بسر کی اور تصنیف و تالیف میں مشغول رہے، نواب کلب علی خاں کے انتقال کے بعد داغ دہلوی کے ایما پر امیر مینائی حیدر آباد گئے اور وہیں 13 اکتوبر 1900ء کو انتقال ہو.’’مرآۃ الغیب‘‘ اور ’’صنم خانۂ عشق‘‘ دو دیوان ان کی یادگار ہیں، تیسرا دیوان ’’محامد خاتم النبیین‘‘ نعت کا مجموعہ ہے،’’امیر اللغات‘‘ کی صرف دوجلدیں الف ممدودہ اور الف مقصورہ شائع ہوئیں، اس کے علاوہ ان کی نثرونظم میں معتدد تصانیف ہیں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR