Skip to content
امیر مینائی امیر مینائی

ہم لوٹتے ہیں وہ سو رہے ہیں

ہم لوٹتے ہیں وہ سو رہے ہیں کیا ناز و نیاز ہو رہے ہیں کیا رنگ جہاں میں ہو رہے ہیں دو ہنستے ہیں چار رو رہے ہیں دنیا سے الگ جو ہو رہے ہیں تکیوں میں مزے سے سو رہے ہیں پہنچی ہے ہماری اب یہ حالت جو ہنستے تھے وہ بھی رو رہے ہیں تنہا تہ خاک بھی نہیں ہم حسرت کے ساتھ سو رہے ہیں سوتے ہیں لحد میں سونے والے جو جاگتے ہیں وہ رو رہے ہیں ارباب کمال چل بسے سب سو میں کہیں ایک دو رہے ہیں پلکوں کی جھپک دکھا کے یہ بت دل میں نشتر چبھو رہے ہیں مجھ داغ نصیب کی لحد پر لالے کا وہ بیج بو رہے ہیں پیری میں بھی ہم ہزار افسوس بچپن کی نیند سو رہے ہیں دامن سے ہم اپنے داغ ہستی آب خنجر سے دو رہے ہیں میں جاگ رہا ہوں اے شب غم پر میرے نصیب سو رہے ہیں روئیں گے ہمیں رلانے والے ڈوبیں گے وہ جو ڈبو رہے ہیں اے حشر مدینے میں نہ کر شور چپ چپ سرکار سو رہے ہیں آئینے پہ بھی کڑی نگاہیں کس پر یہ عتاب ہو رہے ہیں بھاری ہے جو موتیوں کا مالا آٹھ آٹھ آنسو وہ رو رہے ہیں دل چھین کے ہو گئے ہیں غافل فتنے وہ جگا کے سو رہے ہیں ہے غیر کے گھر جو ان کی دعوت ہم جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں صد شکر خیال ہے اسی کا ہم جس سے لپٹ کے سو رہے ہیں ہو جائیں نہ خشک داغ کے پھول آنسو ان کو بھگو رہے ہیں آئے گی نہ پھر کے عمر رفتہ ہم مفت میں جان کھو رہے ہیں کیا گریہ بے اثر سے حاصل اس رونے پہ ہم تو رو رہے ہیں فریاد کہ ناخداۓ کشتی کشتی کو مری ڈبو رہے ہیں کیوں کرتے ہیں غم گسار تکلیف آنسو مرے منہ کو دھو رہے ہیں محفل برخاست ہے پتنگے رخصت شمعوں سے ہو رہے ہیں ہے کوچ کا وقت آسماں پر تارے کہیں نام کو رہے ہیں ان کی بھی نمود ہے کوئی دم وہ بھی نہ رہیں گے جو رہے ہیں دنیا کا یہ رنگ اور ہم کو کچھ ہوش نہیں ہے سو رہے ہیں ٹھہرو دم‌ نزع دو گھڑی اور دو چار نفس ہی تو رہے ہیں پھول ان کو پنہا پنہا کے اغیار کانٹے مرے حق میں بو رہے ہیں زانو پہ امیرؔ سر کو رکھے پہروں گزرے کہ رو رہے ہیں
امیر مینائی

امیر مینائی

View profile

امیر احمد مینائی نام اور امیر تخلص تھا، 21 فروری 1829ء کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے، مخدوم شاہ مینا کے خاندان سے تعلق تھا اس لئے مینائی کہلائے، طب، جفر اور نجوم سے واقف تھے، اپنے علم و فضل اور قابلیت میں اپنے معاصرین سے ممتاز تھے، شعروسخن کا شوق بچپن سے تھا۔ مظفر علی اسیر سے تلمذ حاصل تھا، 1852ء میں واجد علی شاہ کے دربار سے تعلق قائم ہوا اور ان کے حکم سے دو کتابیں’’ارشاد السلطان‘‘ اور ’’ہدایت السلطان‘‘ تصنیف کیں، 1857ء کے ہنگامے کے بعد رام پور چلے گئے، نواب یوسف علی خاں والئ رام پور کے انتقال کے بعد نواب کلب علی خاں نے انھیں اپنا استاد مقرر کیا، رام پور میں 63 برس بڑی عزت و آرام سے زندگی بسر کی اور تصنیف و تالیف میں مشغول رہے، نواب کلب علی خاں کے انتقال کے بعد داغ دہلوی کے ایما پر امیر مینائی حیدر آباد گئے اور وہیں 13 اکتوبر 1900ء کو انتقال ہو.’’مرآۃ الغیب‘‘ اور ’’صنم خانۂ عشق‘‘ دو دیوان ان کی یادگار ہیں، تیسرا دیوان ’’محامد خاتم النبیین‘‘ نعت کا مجموعہ ہے،’’امیر اللغات‘‘ کی صرف دوجلدیں الف ممدودہ اور الف مقصورہ شائع ہوئیں، اس کے علاوہ ان کی نثرونظم میں معتدد تصانیف ہیں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR