Skip to content
امیر مینائی امیر مینائی

صاف کہتے ہو مگر کچھ نہیں کھلتا کہنا

صاف کہتے ہو مگر کچھ نہیں کھلتا کہنا بات کہنا بھی تمہارا ہے معما کہنا رو کے اس شوخ سے قاصد مرا رونا کہنا ہنس پڑے اس پہ تو پھر حرف تمنا کہنا مثل مکتوب نہ کہنے میں ہے کیا کیا کہنا نہ مری طرز خموشی نہ کسی کا کہنا اور تھوڑی سی شب وصل بڑھا دے یارب صبح نزدیک ہمیں ان سے ہے کیا کیا کہنا پھاڑ کھاتا ہے جو غیروں کو جھپٹ کر سگ یار میں یہ کہتا ہوں مرے شیر ترا کیا کہنا ہر بن موئے مژہ میں ہیں یہاں سو طوفاں عین غفلت ہے مری آنکھ کو دریا کہنا وصف رخ میں جو سنے شعر وہ ہنس کر بولے شعر ہیں نور کے ہے نور کا تیرا کہنا لا سکو گے نہ ذرا جلوۂ دیدار کی تاب ارنی منہ سے نہ اے حضرت موسیٰ کہنا کر لیا عہد کبھی کچھ نہ کہیں گے منہ سے اب اگر سچ بھی کہیں تم ہمیں جھوٹا کہنا خاک میں ضد سے ملاؤ نہ مرے آنسو کو سچے موتی کو مناسب نہیں جھوٹا کہنا کیسے ناداں ہیں جو اچھوں کو برا کہتے ہیں ہو برا بھی تو اسے چاہئے اچھا کہنا دم آخر تو بتو یاد خدا کرنے دو زندگی بھر تو کیا میں نے تمہارا کہنا پڑھتے ہیں دیکھ کے اس بت کو فرشتے بھی درود مرحبا صل علیٰ صل علیٰ کیا کہنا اے بتو تم جو ادا آ کے کرو مسجد میں لب محراب کہے نام خدا کیا کہنا ان حسینوں کی جو تعریف کرو چڑھتے ہیں سچ تو یہ ہے کہ برا ہے انہیں اچھا کہنا شوق کعبے لیے جاتا ہے ہوس جانب دیر میرے اللہ بجا لاؤں میں کس کا کہنا ساری محفل کو اشاروں میں لٹا دو اے جان سیکھ لو چشم سخن گو سے لطیفہ کہنا گھٹتے گھٹتے میں رہا عشق کمر میں آدھا جامۂ تن کو مرے چاہئے نیما کہنا میں تو آنکھوں سے بجا لاتا ہوں ارشاد حضور آپ سنتے نہیں کانوں سے بھی میرا کہنا چستیٔ طبع سے استاد کا ہے قول امیرؔ ہو زمیں سست مگر چاہئے اچھا کہنا
امیر مینائی

امیر مینائی

View profile

امیر احمد مینائی نام اور امیر تخلص تھا، 21 فروری 1829ء کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے، مخدوم شاہ مینا کے خاندان سے تعلق تھا اس لئے مینائی کہلائے، طب، جفر اور نجوم سے واقف تھے، اپنے علم و فضل اور قابلیت میں اپنے معاصرین سے ممتاز تھے، شعروسخن کا شوق بچپن سے تھا۔ مظفر علی اسیر سے تلمذ حاصل تھا، 1852ء میں واجد علی شاہ کے دربار سے تعلق قائم ہوا اور ان کے حکم سے دو کتابیں’’ارشاد السلطان‘‘ اور ’’ہدایت السلطان‘‘ تصنیف کیں، 1857ء کے ہنگامے کے بعد رام پور چلے گئے، نواب یوسف علی خاں والئ رام پور کے انتقال کے بعد نواب کلب علی خاں نے انھیں اپنا استاد مقرر کیا، رام پور میں 63 برس بڑی عزت و آرام سے زندگی بسر کی اور تصنیف و تالیف میں مشغول رہے، نواب کلب علی خاں کے انتقال کے بعد داغ دہلوی کے ایما پر امیر مینائی حیدر آباد گئے اور وہیں 13 اکتوبر 1900ء کو انتقال ہو.’’مرآۃ الغیب‘‘ اور ’’صنم خانۂ عشق‘‘ دو دیوان ان کی یادگار ہیں، تیسرا دیوان ’’محامد خاتم النبیین‘‘ نعت کا مجموعہ ہے،’’امیر اللغات‘‘ کی صرف دوجلدیں الف ممدودہ اور الف مقصورہ شائع ہوئیں، اس کے علاوہ ان کی نثرونظم میں معتدد تصانیف ہیں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR