Skip to content
دیا شنکر کول نسیم دیا شنکر کول نسیم

در رہا سب پہ جو سخنور ہے

در رہا سب پہ جو سخنور ہے شعر تیغ زباں کا جوہر ہے بات اپنی یہ سن کے کان میں ڈال آبرو مثل آب گوہر ہے عشق بن کیا کسی کا دل ہو گزار موم بے آگ دیکھے پتھر ہے دل کا دینا سراسری مت جان جان پر کھیلنا سراسر ہے کیا مخالف ہے اس چمن کی ہوا خار دیتا ہے جو گل تر ہے نوک رکھ لو برہنہ پائی کی آباد خار دشت نشتر ہے اب تو جاتے ہیں اس گل میں نسیمؔ ہو رہے گا جو کچھ مقدر ہے
دیا شنکر کول نسیم

دیا شنکر کول نسیم

View profile

پنڈت دیا شنکر نسیمؔ 1811ء میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا تعلق پنڈتوں کے معزز اور تعلیم یافتہ خاندان سے تھا اس لیے ان کو بھی ادبیات سے بے حد دلچسپی تھی۔ ضروری تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ شاہی فوج میں کلرک ہوگئے تھے اور غالباً شعبۂ مالیات کا حساب کتاب رکھتے تھے۔ یہ غازی الدین حیدر اور نصیرالدین حیدر نوابین اودھ کا دور تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب لکھنؤ اپنی آسودہ حالی اور تعیشات میں مست تھا۔ نسیمؔ نے اپنے ادبی ذوق کی تسکین خواجہ حیدر علی آتشؔ کے آگے زانوئے ادب تہہ کر کے حاصل کی۔ آتشؔ کا مرتبہ ان بزرگ اساتذہ میں نمایاں ہے جنہوں نے اردو زبان کی اصلاح، صفائی اور محاورہ بندی کا کام نہایت خوبی سے کیا اور اپنے اپنے اس کام میں شاگردوں کو شریک کرکے اصلاح زبان کے کام کےتسلسل کو جاری رکھا۔ ان کے کم و بیش تمام شاگردوں نے آگے چل کر ایک خاص طرز کلام میں نام حاصل کیا۔ پنڈت دیا شنکر نے بھی حسب رواج شروع میں غزلوں پر طبع آزمائی کی تھی-

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR