دیا شنکر کول نسیم
بالیں پہ ہو اے جان جو رعنائی سے گزرے
بالیں پہ ہو اے جان جو رعنائی سے گزرے
مردہ مرا دیکھے جو مسیحائی سے گزرے
غم مرنے کا اپنے تو نہ تھا گور میں جاکر
اندیشہ ہزاروں تری رعنائی سے گزرے
دیوانہ سے پرسش ہے نہ ویرانے سے حاصل
نادانی میں کیوں ہوئے تو دانائی سے گزرے
بھریے وہیں تک جس میں نہ چھلکے مرے صاحب
اس طرح کی ہم لاف شکیبائی سے گزرے
کہتے تھے وہ کل سن کے نسیمؔ آپ کا چرچا
اکثر ہیں ادھر سے بھی وہ سودائی سے گزرے