Skip to content
سراج اورنگ آبادی سراج اورنگ آبادی

اگر کچھ ہوش ہم رکھتے تو مستانے ہوئے ہوتے

اگر کچھ ہوش ہم رکھتے تو مستانے ہوئے ہوتے پہنچتے جا لب ساقی کوں پیمانے ہوئے ہوتے عبث ان شہریوں میں وقت اپنا ہم کئے ضائع کسی مجنوں کی صحبت بیٹھ دیوانے ہوئے ہوتے نہ رکھتا میں یہاں گر الفت لیلیٰ نگاہوں کوں تو مجنوں کی طرح عالم میں افسانے ہوئے ہوتے اگر ہم آشنا ہوتے تری بیگانہ خوئی سیں برائے مصلحت ظاہر میں بیگانے ہوئے ہوتے زبس کافر ادایوں نے چلائے سنگ بے رحمی اگر سب جمع کرتا میں تو بت خانے ہوئے ہوتے نہ کرتا ضبط اگر میں گریۂ بے اختیاری کوں گزرتا جس طرف یہ پور ویرانے ہوئے ہوتے نظر چشم خریداری سیں کرتا دلبر ناداں اگر قطرے مرے آنسو کے دردانے ہوئے ہوتے محبت کے نشے میں خاص انساں واسطے ورنہ فرشتے یہ شرابیں پی کہ مستانے ہوئے ہوتے عوض اپنے گریباں کے کسی کی زلف ہات آتی ہمارے ہات کے پنجے مگر شانے ہوئے ہوتے تری شمشیر ابرو سیں ہوئے سنمکھ و الا نہ اجل کی تیغ سیں جیوں آرا دندانے ہوئے ہوتے مزہ جو عاشقی میں ہے سو معشوقی میں ہرگز نیں سراجؔ اب ہو چکے افسوس پروانے ہوئے ہوتے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR