سراج اورنگ آبادی
مرا دل آ گیا جھٹ پٹ جھپٹ میں
مرا دل آ گیا جھٹ پٹ جھپٹ میں
ہوا لٹ پٹ لپٹ زلفوں کی لٹ میں
نمایاں ہے وو نور چشم مردم
پلک کی پٹ میں پتلی کی اولٹ میں
اگر دیدار کے پانے کی ہے چاہ
لے سمرن آنسوؤں کی رہ رہٹ میں
ہر اک ناقوس میں آتی ہے آواز
کہ ہے پرگھٹ وو ہر ہر، ہر کے گھٹ میں
لگی ہے چٹ پٹی مت کر نپٹ ہٹ
چھپے مت لٹ پٹے گھونگٹ کے پٹ میں
دل دیوانہ میرا آ گیا ہے
تری زلفوں کے سائے کی جھپٹ میں
سراجؔ اس شمع رو بن جل گیا ہے
نپٹ حسرت کے شعلوں کی لپٹ میں