Skip to content
سراج اورنگ آبادی سراج اورنگ آبادی

قد ترا سرو رواں تھا مجھے معلوم نہ تھا

قد ترا سرو رواں تھا مجھے معلوم نہ تھا گلشن دل میں عیاں تھا مجھے معلوم نہ تھا دھوپ میں غم کی عبث جی کوں جلایا افسوس اس کے سایہ میں اماں تھا مجھے معلوم نہ تھا یار نے ابرو و مژگاں سیں مجھے صید کیا صاحب تیر و کماں تھا مجھے معلوم نہ تھا سب جگت ڈھونڈ پھرا یار نہ پایا لیکن دل کے گوشہ میں نہاں تھا مجھے معلوم نہ تھا خاک تیرے قدم پاک کی اے نور نگاہ سرمۂ دیدۂ جاں تھا مجھے معلوم نہ تھا میں سمجھتا تھا کہ اس یار کا ہے نام و نشاں یار بے نام و نشاں تھا مجھے معلوم نہ تھا روزہ داران جدائی کوں خم ابروئے یار ماہ عید رمضاں تھا مجھے معلوم نہ تھا نگۂ شوخ نے دل ایک کرشمہ میں لیا کیا بلا سیف زباں تھا مجھے معلوم نہ تھا شب ہجراں کی نہ تھی تاب مجھے مثل سراجؔ رخ ترا نور فشاں تھا مجھے معلوم نہ تھا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR