Skip to content
شیخ غلام علی ہمدانی مصحفی شیخ غلام علی ہمدانی مصحفی

آج پلکوں کو جاتے ہیں آنسو

آج پلکوں کو جاتے ہیں آنسو الٹی گنگا بہاتے ہیں آنسو آتش دل تو خاک بجھتی ہے اور جی کو جلاتے ہیں آنسو خون دل کم ہوا مگر جو مرے آج تھم تھم کے آتے ہیں آنسو جب تلک دیدہ گریہ ساماں ہو دل میں کیا جوش کھاتے ہیں آنسو گوکھرو پر تمہاری انگیا کے کس کے یہ لہر کھاتے ہیں آنسو تیری پازیب کے جو ہیں موتی ان سے آنکھیں لڑاتے ہیں آنسو شمع کی طرح اک لگن میں مرے مصحفیؔ کب سماتے ہیں آنسو فکر کر ان کی ورنہ مجلس میں ابھی طوفاں لاتے ہیں آنسو
شیخ غلام علی ہمدانی مصحفی

شیخ غلام علی ہمدانی مصحفی

View profile

شیخ غلام علی ہمدانی مصحفی (پیدائش : 1748ء [4]— وفات :1824ء) اردو زبان کے کلاسیکی اور عہدِ قدیم کے شاعر ہیں۔میر تقی میر کے بعد بحیثیتِ مجموعی اردو شاعری کے دورِ قدیم میں مصحفی، مرتبہ میں سب سے بلند ہے۔[5] ان کی شاعری کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کا شعری مزاج دہلی میں صورت پزیر ہوا لیکن لکھنوکے ماحول، دربارداری کے تقاضوں اور سب سے بڑھ کرانشا سے مقابلوں نے انہیں لکھنوی طرز اپنانے پر مجبور کیا۔ ان کا منتخب کلام کسی بھی بڑے شاعر سے کم نہیں۔ اگر جذبات کی ترجمانی میں میر تک پہنچ جاتے ہیں تو جرات اور انشا کے مخصوص میدان میں بھی پیچھے نہیں رہتے۔ یوں دہلویت اور لکھنویت کے امتزاج نے شاعری میں بیک وقت شیرینی اور نمکینی پیدا کر دی ہے۔ ایک طرف جنسیت کا صحت مندانہ شعور ہے تو دوسری طرف تصوف اور اخلاقی مضامین بھی مل جاتے ہیں۔ آپ تیسرے شعری دور کے صدر مانے جاتے ہیں۔آٹھ اردو، ایک فارسی دیوان اور تین تذکرے آپکے یادگار ہیں.

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR