Skip to content
شیخ غلام علی ہمدانی مصحفی شیخ غلام علی ہمدانی مصحفی

آئے ہو تو یہ حجاب کیا ہے

آئے ہو تو یہ حجاب کیا ہے منہ کھول دو نقاب کیا ہے سینے میں ٹھہرتا ہی نہیں دل یارب اسے اضطراب کیا ہے کل تیغ نکال مجھ سے بولا تو دیکھ تو اس کی آب کیا ہے معلوم نہیں کہ اپنا دیواں ہے مرثیہ یا کتاب کیا ہے جو مر گئے مارے لطف ہی کے پھر ان پہ میاں عتاب کیا ہے اوروں سے تو ہے یہ بے حجابی مجھ سے ہی تجھے حجاب کیا ہے اے مصحفیؔ اٹھ یہ دھوپ آئی اتنا بھی دوانے خواب کیا ہے
شیخ غلام علی ہمدانی مصحفی

شیخ غلام علی ہمدانی مصحفی

View profile

شیخ غلام علی ہمدانی مصحفی (پیدائش : 1748ء [4]— وفات :1824ء) اردو زبان کے کلاسیکی اور عہدِ قدیم کے شاعر ہیں۔میر تقی میر کے بعد بحیثیتِ مجموعی اردو شاعری کے دورِ قدیم میں مصحفی، مرتبہ میں سب سے بلند ہے۔[5] ان کی شاعری کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کا شعری مزاج دہلی میں صورت پزیر ہوا لیکن لکھنوکے ماحول، دربارداری کے تقاضوں اور سب سے بڑھ کرانشا سے مقابلوں نے انہیں لکھنوی طرز اپنانے پر مجبور کیا۔ ان کا منتخب کلام کسی بھی بڑے شاعر سے کم نہیں۔ اگر جذبات کی ترجمانی میں میر تک پہنچ جاتے ہیں تو جرات اور انشا کے مخصوص میدان میں بھی پیچھے نہیں رہتے۔ یوں دہلویت اور لکھنویت کے امتزاج نے شاعری میں بیک وقت شیرینی اور نمکینی پیدا کر دی ہے۔ ایک طرف جنسیت کا صحت مندانہ شعور ہے تو دوسری طرف تصوف اور اخلاقی مضامین بھی مل جاتے ہیں۔ آپ تیسرے شعری دور کے صدر مانے جاتے ہیں۔آٹھ اردو، ایک فارسی دیوان اور تین تذکرے آپکے یادگار ہیں.

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR