Skip to content
خواجہ میر درد خواجہ میر درد

مدرسہ یا دیر تھا یا کعبہ یا بت خانہ تھا

مدرسہ یا دیر تھا یا کعبہ یا بت خانہ تھا ہم سبھی مہمان تھے واں تو ہی صاحب خانہ تھا وائے نادانی کہ وقت مرگ یہ ثابت ہوا خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا حیف! کہتے ہیں ہوا گل زار تاراج خزاں آشنا اپنا بھی واں اک سبزۂ بیگانہ تھا ہو گیا مہماں سرائے کثرت موہوم آہ! وہ دل خالی کہ تیرا خاص خلوت خانہ تھا بھول جا خوش رہ عبث وے سابقے مت یاد کر دردؔ! یہ مذکور کیا ہے آشنا تھا یا نہ تھا
خواجہ میر درد

خواجہ میر درد

View profile

خواجہ میر درد درد کا نام سید خواجہ میر اور درد تخلص تھا با پ کا نام خواجہ محمد ناصر تھا جو فارسی کے اچھے شاعر تھے اور عندلیب تخلص کرتے تھے۔ خواجہ میر درد دہلی میں 1720ءمیں پیدا ہوئے اور ظاہری و باطنی کمالات اور جملہ علوم اپنے والد سے حاصل کیے۔ درویشانہ تعلیم نے روحانیت کو جلا دی اور تصوف کے رنگ میں ڈوب گئے۔ آغاز جوانی میں سپاہی پیشہ تھے۔ پھر دنیا ترک کی اور والد صاحب کے انتقال کے بعد سجادہ نشین ہوئے۔ درد نے شاعری اور تصوف ورثہ میں پائے۔ ذاتی تقدس، خودداری، ریاضت و عبادت کی وجہ سے امیر غریب بادشاہ فقیر سب ان کی عزت کرتے تھے۔ وہ ایک باعمل صوفی تھے اور دولت و ثروت کو ٹھکرا کر درویش گوشہ نشین ہو گئے تھے۔ ان کے زمانے میں دلی ہنگاموں کا مرکز تھی چنانچہ وہاں کے باشندے معاشی بدحالی، بے قدری اور زبوں حالی سے مجبور ہو کر دہلی سے نکل رہے تھے لیکن درد کے پائے استقامت میں لغزش نہ آئی اور وہ دہلی میں مقیم رہے۔ درد نے 1785ءمیں وفات پائی اور جہاں تمام عمر بسر کی وہی درد کا مدفن قرار پایا۔ سیر کر دنیا کی غافل زندگانی پھر کہاں زندگی گر کچھ رہی تو یہ جوانی پھر کہاں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR