کیفی اعظمی
ملے نہ پھول تو کانٹوں ث دوستی کر لی
ملے نہ پھول تو کانٹوں ث دوستی کر لی
اسی طرح سے بسر ہم نے زندگی کر لی
اب آگے جو بھی ہو انجام دیکھا جائے گا
خدا تلاش لیا اور بندگی کر لی
نظر ملی بھی نہ تھی اور ان کو دیکھ لیا
زباں کھلی بھی نہ تھی اور بات بھی کر لی
وہ جن کو پیار ہے چاندی سے عشق سونے سے
وہی کہیں گے کبھی ہم نے خودکشی کر لی