Skip to content
محمد ابراہیم خان ذوق محمد ابراہیم خان ذوق

کل گئے تھے تم جسے بیمار ہجراں چھوڑ کر

کل گئے تھے تم جسے بیمار ہجراں چھوڑ کر چل بسا وہ آج سب ہستی کا ساماں چھوڑ کر طفل اشک ایسا گرا دامان مژگاں چھوڑ کر پھر نہ اٹھا کوچۂ چاک گریباں چھوڑ کر کیونکہ نکلے تیرا اس کا دل میں پیکاں چھوڑ کر جائے بیضے کو کہاں یہ مرغ پراں چھوڑ کر جس نے ہو لذت اٹھائی زخم تیغ عشق کی کب وہ مرہم دان کو ڈھونڈے نمک داں چھوڑ کر صید دل کو کیونکہ چھوڑے جب کہ دکھلا دے نہ تو مچھلیاں دست حنائی میں مری جاں چھوڑ کر سرد مہری سے کسی کی آگے ہی جی سرد ہے یاں سے ہٹ جا دھوپ اے ابر خراماں چھوڑ کر دیکھیے کیا ہو کہ ہے اب جان کے پیچھے پڑی دل کو اے کافر تری زلف پریشاں چھوڑ کر اے دل اس کے تیر کے ہم راہ سینے سے نکل ورنہ پچھتائے گا تو یہ ساتھ ناداں چھوڑ کر کیوں نہ رم کر جائیں آہو ایسے وحشی سے ترے شیر بھاگیں جس کے نالوں سے نیستاں چھوڑ کر سرخی پاں دیکھ لے زاہد جو دنداں پر ترے اٹھ کھڑا ہو ہاتھ سے تسبیح مرجاں چھوڑ کر پیش خیمہ لے کے نکلا گرد باد دور رو ہے جو سرگرم سفر تن کو مری جاں چھوڑ کر گر خدا دیوے قناعت ماہ دوہفتہ کی طرح دوڑے ساری کو کبھی آدھی نہ انساں چھوڑ کر ساغر دل بیچتا آیا ہوں کھو مت ہاتھ سے چوکتا ہے کیوں یہ جنس دست گرداں چھوڑ کر کام یہ تیرا ہی تھا رحمت ہو اے ابر کرم ورنہ جائے داغ عصیاں میرا داماں چھوڑ کر پڑھ غزل اے ذوقؔ کوئی گرم سی اب تو نہ جا جانب مضمون طرز تفتہ جاناں چھوڑ کر
محمد ابراہیم خان ذوق

محمد ابراہیم خان ذوق

View profile

دبستان دہلی میں ذوق کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ محمد ابراہیم نام اور ذوق تخلص تھا۔ ایک غریب سپاہی محمد رمضان کے لڑکے تھے۔ 1789ء میں دلی میں پیدا ہوئے۔ پہلے حافظ غلام رسول کے مکتب میں تعلیم پائی۔ حافظ صاحب کو شعر و شاعری کا شوق تھا۔ ذوق بھی شعر کہنے لگے۔ اس زمانے میں شاہ نصیر دہلوی کا طوطی بول رہا تھا۔ ذوق بھی ان کے شاگرد ہو گئے۔ دل لگا کر محنت کی اور ان کی شاعرانہ مقبولیت بڑھنے لگی۔ بہت جلد علمی و ادبی حلقوں میں ان کا وقار اتنا بلند ہو گیا کہ قلعہ معلیٰ تک رسائی ہو گئی۔ اور خود ولی عہد سلطنت بہادر شاہ ظفر ان کو اپنا کلام دکھانے لگے۔ شاہ اکبر ثانی نے ایک قصیدہ کے صلہ میں ملک الشعراء خاقانی ہند کا خطاب مرحمت فرمایا۔ شروع میں چار روپے ماہانہ پر ظفر کے استاد مقرر ہوئے۔ آخر میں یہ تنخواہ سو روپیہ تک پہنچ گئی۔ مسلسل عروس سخن کے گیسو سنوارنے کے بعد 16 نومبر 1854ء میں دنیائے ادب کا یہ مہردرخشاں ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔ مرنے سے چند ساعت پہلے یہ شعر کہا تھا۔ شیخ ابراہیم ذوق کی آخری آرام گاہ، پہاڑ گنج، شمالی دہلی، دہلی کہتے آج ذوق جہاں سے گزر گیا کیا خوب آدمی تھا خدا مغفرت کرے ذوق کو عربی فارسی کے علاوہ متعدد علوم موسیقی، نجوم، طب، تعبیر خواب وغیرہ پر کافی دسترس حاصل تھی۔ طبیعت میں جدت و ندرت تھی۔ تمام عمر شعر گوئی میں بسر کی۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR