Skip to content
محمد ابراہیم خان ذوق محمد ابراہیم خان ذوق

دکھلا نہ خال ناف تو اے گل بدن مجھے

دکھلا نہ خال ناف تو اے گل بدن مجھے ہر لالہ یاں ہے نافۂ مشک ختن مجھے ہمدم وبال دوش نہ کر پیرہن مجھے کانٹا سا ہے کھٹکتا مرا تن بدن مجھے پھرتا لیے چمن میں ہے دیوانہ پن مجھے زنجیر پا ہے موج نسیم چمن مجھے تسبیح دور بزم میں دیکھو امام کو بخشی ہے حق نے زیب سر انجمن مجھے اے میرے یاسمن ترے دندان آبدار گلشن میں ہیں رلاتے گل یاسمن مجھے محراب کعبہ جب سے ہے تیرا خم کماں صید حرم سمجھتے ہیں ناوک فگن مجھے ہے تن میں ریشہ ہائے نئے خشک استخواں کیوں کھینچتا ہے کانٹوں میں اے ضعف تن مجھے اے لب مسی کو پھینک کہ نیلم ہے کم بہا یاقوت دے یا دے کوئی لعل یمن مجھے ہوں شمع یا کہ شعلہ خبر کچھ نہیں مگر فانوس ہو رہا ہے مرا پیرہن مجھے اک سرزمین لالہ بہار و خزاں میں ہوں یکساں ہے داغ تازہ و داغ کہن مجھے خسرو سے تیشہ بولا جو چاٹوں نہ تیرا خوں شیریں نہ ہووے خون سر کوہ کن مجھے رخ پر تمہارے دام جو ڈالا ہے سبزے نے آتا نظر ہے دیدۂ عنقا دہن مجھے یہ دل وہ ہے کہ کر دے زمیں آسماں کو خاک اک دم کو برق دے جو پنہا پیرہن مجھے کوچے میں تیرے کون تھا لیتا بھلا خبر شب چاندنی نے آ کے پہنایا کفن مجھے دکھلاتا آسماں سے ہے روئے زمیں کی سیر اے رشک ماہ تیری جبیں کا شکن مجھے رکھتا ہے چشم لطف پہ کس کس ادا کے ساتھ دیتا ہے جام ساقی پیماں شکن مجھے ہے جذب دل درست تو چاہ فراق سے کھینچے گی تیری زلف شکن در شکن مجھے دکھلاتا اک ادا میں ہے سو سو طرح بناؤ اس سادہ پن کے ساتھ ترا بانکپن مجھے جیسے کنویں میں ہو کوئی تارا چمک رہا دل سوجھتا ہے یوں تہ چاہ ذقن مجھے آ کر اسے بھی دو کبھی آنکھیں ذرا دکھا آنکھیں دکھا رہا ہے غرال ختن مجھے آ اے مرے چمن کہ ہوا میں تری ہوا صحرائے دل ہوا ہے چمن در چمن مجھے یا رب یہ دل ہے یا کہ ہے آئینہ نظر دکھلا رہا ہے سیر و سفر در وطن مجھے آیا ہوں نور لے کے میں بزم سخن میں ذوقؔ آنکھوں پہ سب بٹھائیں گے اہل سخن مجھے
محمد ابراہیم خان ذوق

محمد ابراہیم خان ذوق

View profile

دبستان دہلی میں ذوق کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ محمد ابراہیم نام اور ذوق تخلص تھا۔ ایک غریب سپاہی محمد رمضان کے لڑکے تھے۔ 1789ء میں دلی میں پیدا ہوئے۔ پہلے حافظ غلام رسول کے مکتب میں تعلیم پائی۔ حافظ صاحب کو شعر و شاعری کا شوق تھا۔ ذوق بھی شعر کہنے لگے۔ اس زمانے میں شاہ نصیر دہلوی کا طوطی بول رہا تھا۔ ذوق بھی ان کے شاگرد ہو گئے۔ دل لگا کر محنت کی اور ان کی شاعرانہ مقبولیت بڑھنے لگی۔ بہت جلد علمی و ادبی حلقوں میں ان کا وقار اتنا بلند ہو گیا کہ قلعہ معلیٰ تک رسائی ہو گئی۔ اور خود ولی عہد سلطنت بہادر شاہ ظفر ان کو اپنا کلام دکھانے لگے۔ شاہ اکبر ثانی نے ایک قصیدہ کے صلہ میں ملک الشعراء خاقانی ہند کا خطاب مرحمت فرمایا۔ شروع میں چار روپے ماہانہ پر ظفر کے استاد مقرر ہوئے۔ آخر میں یہ تنخواہ سو روپیہ تک پہنچ گئی۔ مسلسل عروس سخن کے گیسو سنوارنے کے بعد 16 نومبر 1854ء میں دنیائے ادب کا یہ مہردرخشاں ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔ مرنے سے چند ساعت پہلے یہ شعر کہا تھا۔ شیخ ابراہیم ذوق کی آخری آرام گاہ، پہاڑ گنج، شمالی دہلی، دہلی کہتے آج ذوق جہاں سے گزر گیا کیا خوب آدمی تھا خدا مغفرت کرے ذوق کو عربی فارسی کے علاوہ متعدد علوم موسیقی، نجوم، طب، تعبیر خواب وغیرہ پر کافی دسترس حاصل تھی۔ طبیعت میں جدت و ندرت تھی۔ تمام عمر شعر گوئی میں بسر کی۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR