Skip to content
محمد ابراہیم خان ذوق محمد ابراہیم خان ذوق

چشم قاتل ہمیں کیونکر نہ بھلا یاد رہے

چشم قاتل ہمیں کیونکر نہ بھلا یاد رہے موت انسان کو لازم ہے سدا یاد رہے میرا خوں ہے ترے کوچے میں بہا یاد رہے یہ بہا وہ نہیں جس کا نہ بہا یاد رہے کشتۂ زلف کے مرقد پہ تو اے لیلی وش بید مجنوں ہی لگا تاکہ پتا یاد رہے خاکساری ہے عجب وصف کہ جوں جوں ہو سوا ہو صفا اور دل اہل صفا یاد رہے ہو یہ لبیک حرم یا یہ اذان مسجد مے کشو قلقل مینا کی صدا یاد رہے یاد اس وعدہ فراموش نے غیروں سے بدی یاد کچھ کم تو نہ تھی اور سوا یاد رہے خط بھی لکھتے ہیں تو لیتے ہیں خطائی کاغذ دیکھیے کب تک انہیں میری خطا یاد رہے دو ورق میں کف حسرت کے دو عالم کا ہے علم سبق عشق اگر تجھ کو دلا یاد رہے قتل عاشق پہ کمر باندھی ہے اے دل اس نے پر خدا ہے کہ اسے نام مرا یاد رہے طائر قبلہ نما بن کے کہا دل نے مجھے کہ تڑپ کر یوں ہی مر جائے گا جا یاد رہے جب یہ دیں دار ہیں دنیا کی نمازیں پڑھتے کاش اس وقت انہیں نام خدا یاد رہے ہم پہ سو بار جفا ہو تو رکھو ایک نہ یاد بھول کر بھی کبھی ہووے تو وفا یاد رہے محو اتنا بھی نہ ہو عشق بتاں میں اے ذوقؔ چاہیئے بندے کو ہر وقت خدا یاد رہے
محمد ابراہیم خان ذوق

محمد ابراہیم خان ذوق

View profile

دبستان دہلی میں ذوق کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ محمد ابراہیم نام اور ذوق تخلص تھا۔ ایک غریب سپاہی محمد رمضان کے لڑکے تھے۔ 1789ء میں دلی میں پیدا ہوئے۔ پہلے حافظ غلام رسول کے مکتب میں تعلیم پائی۔ حافظ صاحب کو شعر و شاعری کا شوق تھا۔ ذوق بھی شعر کہنے لگے۔ اس زمانے میں شاہ نصیر دہلوی کا طوطی بول رہا تھا۔ ذوق بھی ان کے شاگرد ہو گئے۔ دل لگا کر محنت کی اور ان کی شاعرانہ مقبولیت بڑھنے لگی۔ بہت جلد علمی و ادبی حلقوں میں ان کا وقار اتنا بلند ہو گیا کہ قلعہ معلیٰ تک رسائی ہو گئی۔ اور خود ولی عہد سلطنت بہادر شاہ ظفر ان کو اپنا کلام دکھانے لگے۔ شاہ اکبر ثانی نے ایک قصیدہ کے صلہ میں ملک الشعراء خاقانی ہند کا خطاب مرحمت فرمایا۔ شروع میں چار روپے ماہانہ پر ظفر کے استاد مقرر ہوئے۔ آخر میں یہ تنخواہ سو روپیہ تک پہنچ گئی۔ مسلسل عروس سخن کے گیسو سنوارنے کے بعد 16 نومبر 1854ء میں دنیائے ادب کا یہ مہردرخشاں ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔ مرنے سے چند ساعت پہلے یہ شعر کہا تھا۔ شیخ ابراہیم ذوق کی آخری آرام گاہ، پہاڑ گنج، شمالی دہلی، دہلی کہتے آج ذوق جہاں سے گزر گیا کیا خوب آدمی تھا خدا مغفرت کرے ذوق کو عربی فارسی کے علاوہ متعدد علوم موسیقی، نجوم، طب، تعبیر خواب وغیرہ پر کافی دسترس حاصل تھی۔ طبیعت میں جدت و ندرت تھی۔ تمام عمر شعر گوئی میں بسر کی۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR