Skip to content
محمد ابراہیم خان ذوق محمد ابراہیم خان ذوق

برق میرا آشیاں کب کا جلا کر لے گئی

برق میرا آشیاں کب کا جلا کر لے گئی کچھ جو خاکستر بچا آندھی اڑا کر لے گئی اس کے قدموں تک نہ بیتابی بڑھا کر لے گئی ہائے دو پلٹے دئیے اور پھر ہٹا کر لے گئی ناتوانی ہم کو ہاتھوں ہاتھ اٹھا کر لے گئی چیونٹی سے چیونٹی دانہ چھڑا کر لے گئی صبح رخ سے کون شام زلف میں جاتا تھا آہ اے دل شامت زدہ شامت لگا کر لے گئی خون سے فرہاد کے رنگیں ہوا دامان کوہ کیوں نہ موج شیر یہ دھبا چھڑا کر لے گئی تم نے تو چھوڑا ہی تھا اے ہم رہان قافلہ لیکن آواز جرس ہم کو جگا کر لے گئی نوک مژگاں جب ہوئی سینہ فگاروں سے دو چار پارہ ہائے دل سے گلدستہ بنا کر لے گئی دیکھی کچھ دل کی کشش لیلیٰ کہ ناقے کو ترے سوئے مجنوں آخرش رستہ بھلا کر لے گئی واہ اے سوز دروں کوچے میں اس کے برق آہ رات ہم کو ہر قدم مشعل دکھا کر لے گئی وہ گئے گھر غیر کے اور یاں ہمیں دم بھر کے بعد بدگمانی ان کے گھر سو گھر پھرا کر لے گئی جو شہید ناز کوچے میں تمہارے تھا پڑا کیا کہوں تقدیر اسے کیونکر اٹھا کر لے گئی دشت وحشت میں بگولا تھا کہ دیوانہ ترا روح مجنوں بہر استقبال آ کر لے گئی آگ میں ہے کون گر پڑتا مگر پروانے کو آتش سوز محبت تھی جلا کر لے گئی اے پری پہلو سے میرے کیا کہوں تیری نگاہ دل اڑا کر لے گئی یا پر لگا کر لے گئی ذوقؔ مر جانے کا تو اپنے کوئی موقع نہ تھا کوئے جاناں میں اجل ناحق لگا کر لے گئی
محمد ابراہیم خان ذوق

محمد ابراہیم خان ذوق

View profile

دبستان دہلی میں ذوق کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ محمد ابراہیم نام اور ذوق تخلص تھا۔ ایک غریب سپاہی محمد رمضان کے لڑکے تھے۔ 1789ء میں دلی میں پیدا ہوئے۔ پہلے حافظ غلام رسول کے مکتب میں تعلیم پائی۔ حافظ صاحب کو شعر و شاعری کا شوق تھا۔ ذوق بھی شعر کہنے لگے۔ اس زمانے میں شاہ نصیر دہلوی کا طوطی بول رہا تھا۔ ذوق بھی ان کے شاگرد ہو گئے۔ دل لگا کر محنت کی اور ان کی شاعرانہ مقبولیت بڑھنے لگی۔ بہت جلد علمی و ادبی حلقوں میں ان کا وقار اتنا بلند ہو گیا کہ قلعہ معلیٰ تک رسائی ہو گئی۔ اور خود ولی عہد سلطنت بہادر شاہ ظفر ان کو اپنا کلام دکھانے لگے۔ شاہ اکبر ثانی نے ایک قصیدہ کے صلہ میں ملک الشعراء خاقانی ہند کا خطاب مرحمت فرمایا۔ شروع میں چار روپے ماہانہ پر ظفر کے استاد مقرر ہوئے۔ آخر میں یہ تنخواہ سو روپیہ تک پہنچ گئی۔ مسلسل عروس سخن کے گیسو سنوارنے کے بعد 16 نومبر 1854ء میں دنیائے ادب کا یہ مہردرخشاں ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔ مرنے سے چند ساعت پہلے یہ شعر کہا تھا۔ شیخ ابراہیم ذوق کی آخری آرام گاہ، پہاڑ گنج، شمالی دہلی، دہلی کہتے آج ذوق جہاں سے گزر گیا کیا خوب آدمی تھا خدا مغفرت کرے ذوق کو عربی فارسی کے علاوہ متعدد علوم موسیقی، نجوم، طب، تعبیر خواب وغیرہ پر کافی دسترس حاصل تھی۔ طبیعت میں جدت و ندرت تھی۔ تمام عمر شعر گوئی میں بسر کی۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR