Skip to content
محمد ابراہیم خان ذوق محمد ابراہیم خان ذوق

چپکے چپکے غم کا کھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے

چپکے چپکے غم کا کھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے جی ہی جی میں تلملانا کوئی ہم سے سیکھ جائے ابر کیا آنسو بہانا کوئی ہم سے سیکھ جائے برق کیا ہے تلملانا کوئی ہم سے سیکھ جائے ذکر شمع حسن لانا کوئی ہم سے سیکھ جائے ان کو درپردہ جلانا کوئی ہم سے سیکھ جائے جھوٹ موٹ افیون کھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے ان کو کف لا کر ڈرانا کوئی ہم سے سیکھ جائے سن کے آمد ان کی از خود رفتہ ہو جاتے ہیں ہم پیشوا لینے کو جانا کوئی ہم سے سیکھ جائے ہم نے اول ہی کہا تھا تو کرے گا ہم کو قتل تیوروں کا تاڑ جانا کوئی ہم سے سیکھ جائے لطف اٹھانا ہے اگر منظور اس کے ناز کا پہلے اس کا ناز اٹھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے جو سکھایا اپنی قسمت نے وگرنہ اس کو غیر کیا سکھائے گا سکھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے دیکھ کر قاتل کو بھر لائے خراش دل میں خوں سچ تو یہ ہے مسکرانا کوئی ہم سے سیکھ جائے تیر و پیکاں دل میں جتنے تھے دیے ہم نے نکال اپنے ہاتھوں گھر لٹانا کوئی ہم سے سیکھ جائے کہہ دو قاصد سے کہ جائے کچھ بہانے سے وہاں گر نہیں آتا بہانا کوئی ہم سے سیکھ جائے خط میں لکھوا کر انہیں بھیجا تو مطلع درد کا درد دل اپنا جتانا کوئی ہم سے سیکھ جائے جب کہا مرتا ہوں وہ بولے مرا سر کاٹ کر جھوٹ کو سچ کر دکھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے واں ہلے ابرو یہاں پھیری گلے پر ہم نے تیغ بات کا ایما سے پانا کوئی ہم سے سیکھ جائے تیغ تو اوچھی پڑی تھی گر پڑے ہم آپ سے دل کو قاتل کے بڑھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے زخم کو سیتے ہیں سب پر سوزن الماس سے چاک سینے کے سلانا کوئی ہم سے سیکھ جائے پوچھے ملا سے جسے کرنا ہو سجدہ سہو کا سیکھے گر اپنا بھلانا کوئی ہم سے سیکھ جائے کیا ہوا اے ذوقؔ ہیں جوں مردمک ہم رو سیاہ لیکن آنکھوں میں سمانا کوئی ہم سے سیکھ جائے
محمد ابراہیم خان ذوق

محمد ابراہیم خان ذوق

View profile

دبستان دہلی میں ذوق کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ محمد ابراہیم نام اور ذوق تخلص تھا۔ ایک غریب سپاہی محمد رمضان کے لڑکے تھے۔ 1789ء میں دلی میں پیدا ہوئے۔ پہلے حافظ غلام رسول کے مکتب میں تعلیم پائی۔ حافظ صاحب کو شعر و شاعری کا شوق تھا۔ ذوق بھی شعر کہنے لگے۔ اس زمانے میں شاہ نصیر دہلوی کا طوطی بول رہا تھا۔ ذوق بھی ان کے شاگرد ہو گئے۔ دل لگا کر محنت کی اور ان کی شاعرانہ مقبولیت بڑھنے لگی۔ بہت جلد علمی و ادبی حلقوں میں ان کا وقار اتنا بلند ہو گیا کہ قلعہ معلیٰ تک رسائی ہو گئی۔ اور خود ولی عہد سلطنت بہادر شاہ ظفر ان کو اپنا کلام دکھانے لگے۔ شاہ اکبر ثانی نے ایک قصیدہ کے صلہ میں ملک الشعراء خاقانی ہند کا خطاب مرحمت فرمایا۔ شروع میں چار روپے ماہانہ پر ظفر کے استاد مقرر ہوئے۔ آخر میں یہ تنخواہ سو روپیہ تک پہنچ گئی۔ مسلسل عروس سخن کے گیسو سنوارنے کے بعد 16 نومبر 1854ء میں دنیائے ادب کا یہ مہردرخشاں ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔ مرنے سے چند ساعت پہلے یہ شعر کہا تھا۔ شیخ ابراہیم ذوق کی آخری آرام گاہ، پہاڑ گنج، شمالی دہلی، دہلی کہتے آج ذوق جہاں سے گزر گیا کیا خوب آدمی تھا خدا مغفرت کرے ذوق کو عربی فارسی کے علاوہ متعدد علوم موسیقی، نجوم، طب، تعبیر خواب وغیرہ پر کافی دسترس حاصل تھی۔ طبیعت میں جدت و ندرت تھی۔ تمام عمر شعر گوئی میں بسر کی۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR