Skip to content
محمد ابراہیم خان ذوق محمد ابراہیم خان ذوق

آنکھیں مری تلووں سے وہ مل جائے تو اچھا

آنکھیں مری تلووں سے وہ مل جائے تو اچھا ہے حسرت پابوس نکل جائے تو اچھا جو چشم کہ بے نم ہو وہ ہو کور تو بہتر جو دل کہ ہو بے داغ وہ جل جائے تو اچھا بیمار محبت نے لیا تیرے سنبھالا لیکن وہ سنبھالے سے سنبھل جائے تو اچھا ہو تجھ سے عیادت جو نہ بیمار کی اپنے لینے کو خبر اس کی اجل جائے تو اچھا کھینچے دل انساں کو نہ وہ زلف سیہ فام اژدر کوئی گر اس کو نگل جائے تو اچھا تاثیر محبت عجب اک حب کا عمل ہے لیکن یہ عمل یار پہ چل جائے تو اچھا دل گر کے نظر سے تری اٹھنے کا نہیں پھر یہ گرنے سے پہلے ہی سنبھل جائے تو اچھا فرقت میں تری تار نفس سینے میں میرے کانٹا سا کھٹکتا ہے نکل جائے تو اچھا اے گریہ نہ رکھ میرے تن خشک کو غرقاب لکڑی کی طرح پانی میں گل جائے تو اچھا ہاں کچھ تو ہو حاصل ثمر نخل محبت یہ سینہ پھپھولوں سے جو پھل جائے تو اچھا وہ صبح کو آئے تو کروں باتوں میں دوپہر اور چاہوں کہ دن تھوڑا سا ڈھل جائے تو اچھا ڈھل جائے جو دن بھی تو اسی طرح کروں شام اور چاہوں کہ گر آج سے کل جائے تو اچھا جب کل ہو تو پھر وہ ہی کہوں کل کی طرح سے گر آج کا دن بھی یوں ہی ٹل جائے تو اچھا القصہ نہیں چاہتا میں جائے وہ یاں سے دل اس کا یہیں گرچہ بہل جائے تو اچھا ہے قطع رہ عشق میں اے ذوقؔ ادب شرط جوں شمع تو اب سر ہی کے بل جائے تو اچھا
محمد ابراہیم خان ذوق

محمد ابراہیم خان ذوق

View profile

دبستان دہلی میں ذوق کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ محمد ابراہیم نام اور ذوق تخلص تھا۔ ایک غریب سپاہی محمد رمضان کے لڑکے تھے۔ 1789ء میں دلی میں پیدا ہوئے۔ پہلے حافظ غلام رسول کے مکتب میں تعلیم پائی۔ حافظ صاحب کو شعر و شاعری کا شوق تھا۔ ذوق بھی شعر کہنے لگے۔ اس زمانے میں شاہ نصیر دہلوی کا طوطی بول رہا تھا۔ ذوق بھی ان کے شاگرد ہو گئے۔ دل لگا کر محنت کی اور ان کی شاعرانہ مقبولیت بڑھنے لگی۔ بہت جلد علمی و ادبی حلقوں میں ان کا وقار اتنا بلند ہو گیا کہ قلعہ معلیٰ تک رسائی ہو گئی۔ اور خود ولی عہد سلطنت بہادر شاہ ظفر ان کو اپنا کلام دکھانے لگے۔ شاہ اکبر ثانی نے ایک قصیدہ کے صلہ میں ملک الشعراء خاقانی ہند کا خطاب مرحمت فرمایا۔ شروع میں چار روپے ماہانہ پر ظفر کے استاد مقرر ہوئے۔ آخر میں یہ تنخواہ سو روپیہ تک پہنچ گئی۔ مسلسل عروس سخن کے گیسو سنوارنے کے بعد 16 نومبر 1854ء میں دنیائے ادب کا یہ مہردرخشاں ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔ مرنے سے چند ساعت پہلے یہ شعر کہا تھا۔ شیخ ابراہیم ذوق کی آخری آرام گاہ، پہاڑ گنج، شمالی دہلی، دہلی کہتے آج ذوق جہاں سے گزر گیا کیا خوب آدمی تھا خدا مغفرت کرے ذوق کو عربی فارسی کے علاوہ متعدد علوم موسیقی، نجوم، طب، تعبیر خواب وغیرہ پر کافی دسترس حاصل تھی۔ طبیعت میں جدت و ندرت تھی۔ تمام عمر شعر گوئی میں بسر کی۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR