Skip to content
محمد ابراہیم خان ذوق محمد ابراہیم خان ذوق

جب چلا وہ مجھ کو بسمل خوں میں غلطاں چھوڑ کر

جب چلا وہ مجھ کو بسمل خوں میں غلطاں چھوڑ کر کیا ہی پچھتاتا تھا میں قاتل کا داماں چھوڑ کر میں وہ مجنوں ہوں جو نکلوں کنج زنداں چھوڑ کر سیب جنت تک نہ کھاؤں سنگ طفلاں چھوڑ کر پیوے میرا ہی لہو مانی جو لب اس شوخ کے کھینچے تو شنگرف سے خون شہیداں چھوڑ کر میں ہوں وہ گمنام جب دفتر میں نام آیا مرا رہ گیا بس منشی قدرت جگہ واں چھوڑ کر سایۂ سرو چمن تجھ بن ڈراتا ہے مجھے سانپ سا پانی میں اے سرو خراماں چھوڑ کر ہو گیا طفلی ہی سے دل میں ترازو تیر عشق بھاگے ہیں مکتب سے ہم اوراق میزاں چھوڑ کر اہل جوہر کو وطن میں رہنے دیتا گر فلک لعل کیوں اس رنگ سے آتا بدخشاں چھوڑ کر شوق ہے اس کو بھی طرز نالۂ عشاق سے دم بدم چھیڑے ہے منہ سے دود قلیاں چھوڑ کر دل تو لگتے ہی لگے گا حوریان عدن سے باغ ہستی سے چلا ہوں ہائے پریاں چھوڑ کر گھر سے بھی واقف نہیں اس کے کہ جس کے واسطے بیٹھے ہیں گھر بار ہم سب خانہ ویراں چھوڑ کر وصل میں گر ہووے مجھ کو رویت ماہ رجب روئے جاناں ہی کو دیکھوں میں تو قرآں چھوڑ کر ان دنوں گرچہ دکن میں ہے بڑی قدر سخن کون جائے ذوقؔ پر دلی کی گلیاں چھوڑ کر
محمد ابراہیم خان ذوق

محمد ابراہیم خان ذوق

View profile

دبستان دہلی میں ذوق کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ محمد ابراہیم نام اور ذوق تخلص تھا۔ ایک غریب سپاہی محمد رمضان کے لڑکے تھے۔ 1789ء میں دلی میں پیدا ہوئے۔ پہلے حافظ غلام رسول کے مکتب میں تعلیم پائی۔ حافظ صاحب کو شعر و شاعری کا شوق تھا۔ ذوق بھی شعر کہنے لگے۔ اس زمانے میں شاہ نصیر دہلوی کا طوطی بول رہا تھا۔ ذوق بھی ان کے شاگرد ہو گئے۔ دل لگا کر محنت کی اور ان کی شاعرانہ مقبولیت بڑھنے لگی۔ بہت جلد علمی و ادبی حلقوں میں ان کا وقار اتنا بلند ہو گیا کہ قلعہ معلیٰ تک رسائی ہو گئی۔ اور خود ولی عہد سلطنت بہادر شاہ ظفر ان کو اپنا کلام دکھانے لگے۔ شاہ اکبر ثانی نے ایک قصیدہ کے صلہ میں ملک الشعراء خاقانی ہند کا خطاب مرحمت فرمایا۔ شروع میں چار روپے ماہانہ پر ظفر کے استاد مقرر ہوئے۔ آخر میں یہ تنخواہ سو روپیہ تک پہنچ گئی۔ مسلسل عروس سخن کے گیسو سنوارنے کے بعد 16 نومبر 1854ء میں دنیائے ادب کا یہ مہردرخشاں ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔ مرنے سے چند ساعت پہلے یہ شعر کہا تھا۔ شیخ ابراہیم ذوق کی آخری آرام گاہ، پہاڑ گنج، شمالی دہلی، دہلی کہتے آج ذوق جہاں سے گزر گیا کیا خوب آدمی تھا خدا مغفرت کرے ذوق کو عربی فارسی کے علاوہ متعدد علوم موسیقی، نجوم، طب، تعبیر خواب وغیرہ پر کافی دسترس حاصل تھی۔ طبیعت میں جدت و ندرت تھی۔ تمام عمر شعر گوئی میں بسر کی۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR