Skip to content
محمد ابراہیم خان ذوق محمد ابراہیم خان ذوق

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے تم نے ٹھہرائی اگر غیر کے گھر جانے کی تو ارادے یہاں کچھ اور ٹھہر جائیں گے خالی اے چارہ گرو ہوں گے بہت مرہم داں پر مرے زخم نہیں ایسے کہ بھر جائیں گے پہنچیں گے رہ گزر یار تلک کیوں کر ہم پہلے جب تک نہ دو عالم سے گزر جائیں گے شعلۂ آہ کو بجلی کی طرح چمکاؤں پر مجھے ڈر ہے کہ وہ دیکھ کے ڈر جائیں گے ہم نہیں وہ جو کریں خون کا دعویٰ تجھ پر بلکہ پوچھے گا خدا بھی تو مکر جائیں گے آگ دوزخ کی بھی ہو جائے گی پانی پانی جب یہ عاصی عرق شرم سے تر جائیں گے نہیں پائے گا نشاں کوئی ہمارا ہرگز ہم جہاں سے روش تیر نظر جائیں گے سامنے چشم گہر بار کے کہہ دو دریا چڑھ کے گر آئے تو نظروں سے اتر جائیں گے لائے جو مست ہیں تربت پہ گلابی آنکھیں اور اگر کچھ نہیں دو پھول تو دھر جائیں گے رخ روشن سے نقاب اپنے الٹ دیکھو تم مہر و مہ نظروں سے یاروں کی اتر جائیں گے ہم بھی دیکھیں گے کوئی اہل نظر ہے کہ نہیں یاں سے جب ہم روش تیر نظر جائیں گے ذوقؔ جو مدرسے کے بگڑے ہوئے ہیں ملا ان کو مے خانے میں لے آؤ سنور جائیں گے
محمد ابراہیم خان ذوق

محمد ابراہیم خان ذوق

View profile

دبستان دہلی میں ذوق کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ محمد ابراہیم نام اور ذوق تخلص تھا۔ ایک غریب سپاہی محمد رمضان کے لڑکے تھے۔ 1789ء میں دلی میں پیدا ہوئے۔ پہلے حافظ غلام رسول کے مکتب میں تعلیم پائی۔ حافظ صاحب کو شعر و شاعری کا شوق تھا۔ ذوق بھی شعر کہنے لگے۔ اس زمانے میں شاہ نصیر دہلوی کا طوطی بول رہا تھا۔ ذوق بھی ان کے شاگرد ہو گئے۔ دل لگا کر محنت کی اور ان کی شاعرانہ مقبولیت بڑھنے لگی۔ بہت جلد علمی و ادبی حلقوں میں ان کا وقار اتنا بلند ہو گیا کہ قلعہ معلیٰ تک رسائی ہو گئی۔ اور خود ولی عہد سلطنت بہادر شاہ ظفر ان کو اپنا کلام دکھانے لگے۔ شاہ اکبر ثانی نے ایک قصیدہ کے صلہ میں ملک الشعراء خاقانی ہند کا خطاب مرحمت فرمایا۔ شروع میں چار روپے ماہانہ پر ظفر کے استاد مقرر ہوئے۔ آخر میں یہ تنخواہ سو روپیہ تک پہنچ گئی۔ مسلسل عروس سخن کے گیسو سنوارنے کے بعد 16 نومبر 1854ء میں دنیائے ادب کا یہ مہردرخشاں ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔ مرنے سے چند ساعت پہلے یہ شعر کہا تھا۔ شیخ ابراہیم ذوق کی آخری آرام گاہ، پہاڑ گنج، شمالی دہلی، دہلی کہتے آج ذوق جہاں سے گزر گیا کیا خوب آدمی تھا خدا مغفرت کرے ذوق کو عربی فارسی کے علاوہ متعدد علوم موسیقی، نجوم، طب، تعبیر خواب وغیرہ پر کافی دسترس حاصل تھی۔ طبیعت میں جدت و ندرت تھی۔ تمام عمر شعر گوئی میں بسر کی۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR