Skip to content
مجروح سلطان پوری مجروح سلطان پوری

اب اہل درد یہ جینے کا اہتمام کریں

اب اہل درد یہ جینے کا اہتمام کریں اسے بھلا کے غم زندگی کا نام کریں فریب کھا کے ان آنکھوں کا کب تلک اے دل شراب خام پئیں رقص نا تمام کریں غم حیات نے آوارہ کر دیا ورنہ تھی آرزو کہ ترے در پہ صبح و شام کریں نہ مانگوں بادۂ گلگوں سے بھیک مستی کی اگر ترے لب لعلیں مرا یہ کام کریں نہ دیکھیں دیر و حرم سوئے رہروان حیات یہ قافلے تو نہ جانے کہاں قیام کریں ہیں اس کشاکش پیہم میں زندگی کے مزے پھر ایک بار کوئی سعئ نا تمام کریں سکھائیں دست طلب کو ادائے بیباکی پیام زیرلبی کو صلائے عام کریں غلام رہ چکے توڑیں یہ بند رسوائی کچھ اپنے بازوئے محنت کا احترام کریں زمیں کو مل کے سنواریں مثال روئے نگار رخ نگار سے روشن چراغ بام کریں پھر اٹھ کے گرم کریں کاروبار زلف و جنوں پھر اپنے ساتھ اسے بھی اسیر دام کریں مری نگاہ میں ہے ارض ماسکو مجروحؔ وہ سرزمیں کہ ستارے جسے سلام کریں
مجروح سلطان پوری

مجروح سلطان پوری

View profile

مجروح سلطانپوری (17 جون 1920ء – 24 مئی 2000ء) اردو زبان کے مشہور شاعر اور نامور نغمہ نگار تھے۔ ان کا اصل نام اسرار الحسن خان تھا۔ وہ 01اکتوبر 1919ء کو اترپردیش کے ضلع سلطانپور میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد ایک سب انسپکٹر تھے۔مجروح نے صرف ساتویں جماعت تک اسکول میں پڑھاتھا۔ اس کے بعد انہوں نے عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کی تھی جس کے ساتھ ہی انہوں نے سات سال کا کورس پورا کیا تھا۔ درس نظامی کا کورس مکمل کرنے کے بعد عالم قرار پائے تھے۔ اس کے بعد لکھنؤ کے تکمیل الطب کالج سے یونانی طریقہ علاج میں تعلیم حاصل کی اورحکیم بن گئے۔ایک موقع پر سلطان پور میں مشاعرہ منعقد ہوا۔ اس موقع پر مجروح نے غزل پڑھی جسے سامعین نے بے حد سراہا۔ یہیں سے حکمت پس منظر میں چلی گئی اور شاعری میدان عمل میں رہنما بن گئی تھی۔ جگر مرادآبادی بھی مجروح کے مصاحبوں میں سے ایک تھے۔1945ء میں مجروح ایک مشاعرے میں شرکت کی غرض سے ممبی آئے تھے۔ مشاعرہ گاہ میں انہیں خوب سراہا گیا تھا۔ مداح شرکا میں پروڈیوسر اے۔ آر۔ کاردار بھی تھے۔ انہوں نے مجروح کو نوشاد سے ملایا۔ نوشاد نے مجروح کو ایک دھن سنائی اور اس پر ایک نغمہ لکھنے کو کہا۔ مجروح نے اس دھن پر یوں لکھا: جب اس نے گیسو بکھرائے نوشاد کو یہ گیت پسند آیا اور انہوں نے مجروح کے ساتھ فلم شاہ جہاں کے گیت لکھنے کا معاہدہ کیا۔ اس فلم کے گیت بے حد مقبول ہوئے۔ فلم شاہ جہاں کا سب سے مشہور گیت " جب دل ہی ٹوٹ گیا ہم جی کے کیا کریں گے رہا ۔ مجروح پچاس سال فلمی دنیا سے جُڑے رہے۔ انھوں نے300 سے بھی زائد فلموں میں ہزاروں گیت لکھے جو بے حد مقبول ہوئے تھے۔ 24 مئی 2000 کو مجروح صاحب اس دنیاٗے ناپائیدار سے رخصت ہوئے۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR