Skip to content
قتیل شفائی قتیل شفائی

رقص کرنے کا ملا حکم جو دریاؤں میں

رقص کرنے کا ملا حکم جو دریاؤں میں ہم نے خوش ہو کے بھنور باندھ لئے پاؤں میں ان کو بھی ہے کسی بھیگے ہوئے منظر کی تلاش بوند تک بھی نہ بو سکے جو کبھی صحراؤں میں اے مرے ہم سفرو تم بھی تھکے ہارے ہو دھوپ کی تم تو ملاوٹ نہ کرو چھاؤں میں جو بھی آتا ہے بتاتا ہے نیا کوئی علاج بٹ نہ جائے ترا بیمار مسیحاؤں میں حوصلہ کس میں ہے یوسف کی خریداری کا اب تو مہنگائی کے چرچے ہیں زلیخاؤں میں جس برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے اس کو دفناؤ مرے ہاتھ کی ریکھاؤں میں وہ خدا ہے کسی ٹوٹے ہوئے دل میں ہوگا مسجدوں میں اسے ڈھونڈو نہ کلیساؤں میں ہم کو آپس میں محبت نہیں کرنے دیتے اک یہی عیب ہے اس شہر کے داناؤں میں مجھ سے کرتے ہیں قتیلؔ اس لئے کچھ لوگ حسد کیوں مرے شعر ہیں مقبول حسیناؤں میں
قتیل شفائی

قتیل شفائی

View profile

اورنگزیب خان (پیدائش ۲۴ دسمبر، ۱۹۱۹ء - وفات ۱۱ جولائی، ۲۰۰۱ء) جو قتیل شفائی کے نام سے جانے جاتے ہے، پاکستان کے ایک مشہور و معروف اردو شاعر تھے۔[4] قتیل شفائی خیبر پختونخوا ہری پورہزارہ میں پیدا ہوئے۔ اس کے بعد لاہور میں سکونت اختیار کی۔ یہاں پر فلمی دنیا سے وابستہ ہوئے اور پاک و بھارت کی بے شمار فلموں کے لیے گیت لکھے۔قتیل شفائی ۱۹۱۹ء میں برطانوی ہند (موجوہ پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ ان کا پیدائشی نام محمد اورنگ زیب تھا۔[6] ان کا خاندانی پس منظر ہندکوان ہے۔ انہوں نے ۱۹۳۸ء میں قتیل شفائی اپنا قلمی نام رکھا اور اردو دنیا میں اسی نام سے مشہور ہیں۔ اردو شاعری میں وہ قتیل تخلص کرتے ہیں۔ شفائی انہوں نے اپنے استاد حکیم محمد یحییٰ شِفا کانپوری کے نام کی وجہ سے اپنے نام کے ساتھ لگایا۔۱۹۳۵ میں ان کے والد کی وفات ہوئی اور ان پر اعلیٰ تعلیم چھوڑنے کا دباو بنا۔ انہوں نے کھیل کے سامان کی ایک دوکان کھول لی مگر تجارت میں وہ ناکام رہے اور انہوں نے اپنے چھوٹے سے قصبہ سے راولپنڈی منتقل ہونے کا فیصلہ کیا جہاں انہوں نے ایک ٹرانسپورٹ کمپنی کے لیے کام کرنا شروع کیا۔ بعد میں ۱۹۴۷ء میں انہوں نے پاکستانی سنیما میں قدم رکھا نغمہ لکھنے لگے۔ان کے والد ایک تاجر تھے اور ان کے گھر میں شعر و شاعری کا کوئی رواج نہ تھا۔ ابتدا میں انہوں حکیم یحییٰ کو اپنا کلام دکھانا شروع کیا اور بعد میں احمد ندیم قاسمی سے اصلاح لینے لگے اور باقاعدہ ان کے شاگرد بن گئے۔ قاسمی ان کے دوست بھی تھے اور پڑوسی بھی۔تیل شفائی نہایت ہی مقبول اور ہردلعزیز شاعر ہیں۔ ان کے لہجہ کی سادگی و سچائی، عام فہم زبان کا استعمال اور عوام الناس کے جذبات و محسوسات کی خوبصورت ترجمانی ہی ان کی مقبولیت کا راز ہے۔ یوں تو انہوں مختلف اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی مگر ان کا اصل میدان غزل ہے۔ ان کی شاعری میں معاشرتی او رسیاسی شعور بھی موجود ہے اور انہیں صفِ اوّل کے ترقی پسند شعرا میں اہم مقام حاصل ہے۔ فلمی نغمہ نگاری میں بھی انہوں نے ایک معتبر مقام حاصل کیا۔ ان کا کلام پاکستان اور بھارت دونوں ملکوں میں یکساں طور پر مقبول ہے۔صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی ۱۹۹۴ء، آدم جی ادبی انعام، امیر خسرو ایوارڈ، نقوش ایوارڈ۔ نیز بھارت کی مگدھ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے "قتیل اور ان کے ادبی کارنامے" کے عنوان سے ان پر پی ایچ ڈی کی۔ صوبہ مہاراشٹر میں ان کی دو نظمیں شامل نصاب ہیں۔ علاوہ ازیں بہاولپور یونیورسٹی کی دو طالبات نے ایم اے کے لیے ان پر مقالہ تحریر کیا۔۱۱ جولائی ۲۰۰۱ء کو قتیل شفائی لاہور میں وفات پاگئے اور علامہ اقبال ٹائون کے کریم بلاک کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR