Skip to content
قتیل شفائی قتیل شفائی

یہ معجزہ بھی محبت کبھی دکھائے مجھے

یہ معجزہ بھی محبت کبھی دکھائے مجھے کہ سنگ تجھ پہ گرے اور زخم آئے مجھے میں اپنے پاؤں تلے روندتا ہوں سائے کو بدن مرا ہی سہی دوپہر نہ بھائے مجھے بہ رنگ عود ملے گی اسے مری خوشبو وہ جب بھی چاہے بڑے شوق سے جلائے مجھے میں گھر سے تیری تمنا پہن کے جب نکلوں برہنہ شہر میں کوئی نظر نہ آئے مجھے وہی تو سب سے زیادہ ہے نکتہ چیں میرا جو مسکرا کے ہمیشہ گلے لگائے مجھے میں اپنے دل سے نکالوں خیال کس کس کا جو تو نہیں تو کوئی اور یاد آئے مجھے زمانہ درد کے صحرا تک آج لے آیا گزار کر تری زلفوں کے سائے سائے مجھے وہ میرا دوست ہے سارے جہاں کو ہے معلوم دغا کرے وہ کسی سے تو شرم آئے مجھے وہ مہرباں ہے تو اقرار کیوں نہیں کرتا وہ بد گماں ہے تو سو بار آزمائے مجھے میں اپنی ذات میں نیلام ہو رہا ہوں قتیلؔ غم حیات سے کہہ دو خرید لائے مجھے
قتیل شفائی

قتیل شفائی

View profile

اورنگزیب خان (پیدائش ۲۴ دسمبر، ۱۹۱۹ء - وفات ۱۱ جولائی، ۲۰۰۱ء) جو قتیل شفائی کے نام سے جانے جاتے ہے، پاکستان کے ایک مشہور و معروف اردو شاعر تھے۔[4] قتیل شفائی خیبر پختونخوا ہری پورہزارہ میں پیدا ہوئے۔ اس کے بعد لاہور میں سکونت اختیار کی۔ یہاں پر فلمی دنیا سے وابستہ ہوئے اور پاک و بھارت کی بے شمار فلموں کے لیے گیت لکھے۔قتیل شفائی ۱۹۱۹ء میں برطانوی ہند (موجوہ پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ ان کا پیدائشی نام محمد اورنگ زیب تھا۔[6] ان کا خاندانی پس منظر ہندکوان ہے۔ انہوں نے ۱۹۳۸ء میں قتیل شفائی اپنا قلمی نام رکھا اور اردو دنیا میں اسی نام سے مشہور ہیں۔ اردو شاعری میں وہ قتیل تخلص کرتے ہیں۔ شفائی انہوں نے اپنے استاد حکیم محمد یحییٰ شِفا کانپوری کے نام کی وجہ سے اپنے نام کے ساتھ لگایا۔۱۹۳۵ میں ان کے والد کی وفات ہوئی اور ان پر اعلیٰ تعلیم چھوڑنے کا دباو بنا۔ انہوں نے کھیل کے سامان کی ایک دوکان کھول لی مگر تجارت میں وہ ناکام رہے اور انہوں نے اپنے چھوٹے سے قصبہ سے راولپنڈی منتقل ہونے کا فیصلہ کیا جہاں انہوں نے ایک ٹرانسپورٹ کمپنی کے لیے کام کرنا شروع کیا۔ بعد میں ۱۹۴۷ء میں انہوں نے پاکستانی سنیما میں قدم رکھا نغمہ لکھنے لگے۔ان کے والد ایک تاجر تھے اور ان کے گھر میں شعر و شاعری کا کوئی رواج نہ تھا۔ ابتدا میں انہوں حکیم یحییٰ کو اپنا کلام دکھانا شروع کیا اور بعد میں احمد ندیم قاسمی سے اصلاح لینے لگے اور باقاعدہ ان کے شاگرد بن گئے۔ قاسمی ان کے دوست بھی تھے اور پڑوسی بھی۔تیل شفائی نہایت ہی مقبول اور ہردلعزیز شاعر ہیں۔ ان کے لہجہ کی سادگی و سچائی، عام فہم زبان کا استعمال اور عوام الناس کے جذبات و محسوسات کی خوبصورت ترجمانی ہی ان کی مقبولیت کا راز ہے۔ یوں تو انہوں مختلف اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی مگر ان کا اصل میدان غزل ہے۔ ان کی شاعری میں معاشرتی او رسیاسی شعور بھی موجود ہے اور انہیں صفِ اوّل کے ترقی پسند شعرا میں اہم مقام حاصل ہے۔ فلمی نغمہ نگاری میں بھی انہوں نے ایک معتبر مقام حاصل کیا۔ ان کا کلام پاکستان اور بھارت دونوں ملکوں میں یکساں طور پر مقبول ہے۔صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی ۱۹۹۴ء، آدم جی ادبی انعام، امیر خسرو ایوارڈ، نقوش ایوارڈ۔ نیز بھارت کی مگدھ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے "قتیل اور ان کے ادبی کارنامے" کے عنوان سے ان پر پی ایچ ڈی کی۔ صوبہ مہاراشٹر میں ان کی دو نظمیں شامل نصاب ہیں۔ علاوہ ازیں بہاولپور یونیورسٹی کی دو طالبات نے ایم اے کے لیے ان پر مقالہ تحریر کیا۔۱۱ جولائی ۲۰۰۱ء کو قتیل شفائی لاہور میں وفات پاگئے اور علامہ اقبال ٹائون کے کریم بلاک کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR