Skip to content
سیف الدین سیف سیف الدین سیف

ہم کو تو گردش حالات پہ رونا آیا

ہم کو تو گردش حالات پہ رونا آیا رونے والے تجھے کس بات پہ رونا آیا کیسے جیتے ہیں یہ کس طرح جیے جاتے ہیں اہل دل کی بسر اوقات پہ رونا آیا جی نہیں آپ سے کیا مجھ کو شکایت ہوگی ہاں مجھے تلخئ حالات پہ رونا آیا حسن مغرور کا یہ رنگ بھی دیکھا آخر آخر ان کو بھی کسی بات پہ رونا آیا کیسے مر مر کے گزاری ہے تمہیں کیا معلوم رات بھر تاروں بھری رات پہ رونا آیا کتنے بیتاب تھے رم جھم میں پئیں گے لیکن آئی برسات تو برسات پہ رونا آیا حسن نے اپنی جفاؤں پہ بہائے آنسو عشق کو اپنی شکایات پہ رونا آیا کتنے انجان ہیں کیا سادگی سے پوچھتے ہیں کہیے کیا میری کسی بات پہ رونا آیا اول اول تو بس ایک آہ نکل جاتی تھی آخر آخر تو ملاقات پہ رونا آیا سیفؔ یہ دن تو قیامت کی طرح گزرا ہے جانے کیا بات تھی ہر بات پہ رونا آیا
سیف الدین سیف

سیف الدین سیف

View profile

سیف الدین سیف 20 مارچ، 1922ء کو کوچۂ کشمیراں امرتسر، برطانوی ہندوستان کے ایک معزز اور ادبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے آباء و اجداد کشمیر سے ہجرت کرکے امرتسر میں آباد ہوئے تھے۔ والد کا نام خواجہ معراج دین تھا جو ایک نیک صفت اور درویش منش آدمی تھے۔ سیف الدین سیف کی عمر جب ڈھائی برس ہوئی تو والدہ کا انتقال ہو گیا۔ سیف کا بچپن امرتسر کی گلیوں میں گزرا۔ ابتدائی تعلیم مسلم ہائی اسکول امرتسر سے حاصل کی لیکن میٹرک کا امتحان بطور پرائیویٹ امیدوار اچھے نمبروں سے پاس کیا۔ پھر ایم اے او کالج امرتسر میں داخل ہو گئے۔ یہاں پر کالج پرنسپل ڈاکٹر ایم ڈی تاثیر اور انگریزی لیکچرار فیض احمد فیض کی قربت نے علمی و ادبی ذوق پیدا کیا۔سیف الدین سیف ایف اے کرنے کے بعد تعلیم جاری نہ رکھ سکے اور فلمی دنیا کے چند لوگوں کے کہنے پر فلمی کہانیاں لکھنے لگے۔ قیام پاکستان کے بعد ہجرت کرکے لاہور کی فلمی دنیا سے وابستہ ہو گئے۔ 1954ء میں انہوں نے اپنا ذاتی ادارہ راہ نما فلمز قائم کیا۔ انہوں نے جن فلموں کے لیے نغمات تحریر کیے ان میں ہچکولے، امانت، نویلی دلہن، غلام، محبوبہ، آغوش، آنکھ کا نشہ، سات لاکھ، کرتار سنگھ، طوفان، قاتل، انتقام، لخت جگر، امراؤ جان ادا، ثریا بھوپالی، عذرا، تہذیب، انارکلی، انجمن، شمع پروانہ کے نام سرِ فہرست ہیں۔ انہوں نے خود بھی فلمیں بنائیں جن میں سات لاکھ اور کرتار سنگھ شامل ہیں۔انہوں نے فلم نگری میں رہنے کے باوجود ادب سے اپنا رابطہ بحال رکھا اور گیتوں کے ساتھ ساتھ نظمیں اور غزلیں بھی تخلیق کرتے رہے۔ سیف الدین سیف کی شاعری سماج کے مسائل اور زندگی کے حقائق کو حقیقت پسندانہ انداز میں بیان کرنے بدرجہ اتم کمال رکھتی ہے۔ وہ غم کی عکاسی بہت ہی مکمل اور متوازن انداز میں کرتے ہیں۔ وہ ندرت افکار کے بیان کے لیے ندرت الفاظ کا انداز اپنا کر معنی آفرینی کی ایسی کیفیت پیدا کرتے ہیں جس سے ان کی شاعری میں سحر کاری اور دلکشی پیدا ہوئی ہے۔ اس خوبصورت شاعر کی غزلوں اور گیتوں کی گونج ہمیشہ ہمارے کانوں میں گونجتی رہے گی۔ سیف الدین سیف کے فن و شخصیت پر روبینہ شائستہ نے شاعر کج کلاہ کے نام سے ایک طویل مقالہ لکھا تھا جو کتابی صورت میں شائع ہو چکا ہے۔ ان کی شاعری کے مجموعہ کلام میں خم کاکل ، کف گل فروش اور دور دراز شامل ہیں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR