Skip to content
سلام مچھلی شہری سلام مچھلی شہری

سرحد فنا تک بھی تیرگی نہیں آئی

سرحد فنا تک بھی تیرگی نہیں آئی یوں بھی راس اندھیروں کی زندگی نہیں آئی تم شراب پی کر بھی ہوش مند رہتے ہو جانے کیوں مجھے ایسی مے کشی نہیں آئی جس کی بھی تباہی ہو کچھ اثر تو رکھتی ہے آج میری حالت پر کیوں ہنسی نہیں آئی اور بھی درخشاں ہو اے مرے نئے سورج اب بھی میرے آنگن میں روشنی نہیں آئی رہروان دانش کی زندگی بتاتی ہے کام کن منازل میں آگہی نہیں آئی لوگ چار ہی دن میں بن گئے سلامؔ اے دل اور خود مجھے اب تک شاعری نہیں آئی
سلام مچھلی شہری

سلام مچھلی شہری

View profile

سلام مچھلی شہری بیسویں صدی عیسوی میں اردو کے ایک معروف نظم اور غزل گو شاعر تھے۔سلام مچھلی شہری کی ولادت 1 جولائی 1921ء کو صوبہ اترپردیش کے ضلع جونپور کے ایک شہر مچھلی شہر میں ہوئی۔ انہیں اردو، انگریزی اور فارسی زبانوں میں مہارت حاصل تھی۔ انہوں نے آل انڈیا ریڈیو کے شعبہ اردو میں گرانقدر خدمات انجام دیں۔ 19 نومبر 1972ء کو ان کی وفات ہوئی۔سلام مچھلی شہری کی بہت ساری غزلوں کو موسیقی کا جامہ پہنایا گیا۔ جگجیت سنگھ جیسے مشہور غزل گائیکوں نے ان کی غزلوں کو اپنی آواز دی۔ انہوں نے اردو میں سانیٹ بھی لکھے ہیں۔ وہ ترقی پسند تحریک کے بہت متحرک کارکن تھے۔ ایک مراٹھی مضمون "گیت یاترے" میں مادھو موہولکر نے لکھا کہ فیض احمد فیض، اسرار الحق مجاز، جذبی، سلام مچھلی شہری، ساحر لدھیانوی اور دیگر شعرا نے اردو ادب میں ترقی پسند شاعری کے ایک نئے دور کا آغاز کیا ہے۔ سلام مچھلی شہری اور جانشین داغ عبد المتین مچھلی شہری مچھلی شہر کے دو سب سے مشہور شعرا ہیں جنھوں نے معاصر اردو شاعری میں ناقابل فراموش اثرات چھوڑے۔ سلام مچھلی شہر ی پدم شری سے بھی نوازے گئے تھے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR