Skip to content
ٹھہر جاؤ انہیں گاتی ہوئی پر نور راہوں میں اور اک لمحے کو یہ سوچو ہرے شیتل منوہر کتنے جنگل آج ویراں ہے وہ کیسی لہلہاتی کھیتیاں تھیں اب جو پنہاں ہیں وہ منظر کتنے دل کش تھے جو اب یاد گریزاں ہیں بس اک لمحے کو یہ سوچو نہ جانے کتنی نعشوں کو کچل کر آج لائے ہو نئی تہذیب کی ان جنتوں میں جلوہ گاہوں میں سنو انساں ہوں اور روز ازل ہی سے مری تخلیق اور تعمیر کے جلوے فروزاں ہیں میں جب مرتا ہوں تب اک زندگی آباد ہوتی ہے
سلام مچھلی شہری

سلام مچھلی شہری

View profile

سلام مچھلی شہری بیسویں صدی عیسوی میں اردو کے ایک معروف نظم اور غزل گو شاعر تھے۔سلام مچھلی شہری کی ولادت 1 جولائی 1921ء کو صوبہ اترپردیش کے ضلع جونپور کے ایک شہر مچھلی شہر میں ہوئی۔ انہیں اردو، انگریزی اور فارسی زبانوں میں مہارت حاصل تھی۔ انہوں نے آل انڈیا ریڈیو کے شعبہ اردو میں گرانقدر خدمات انجام دیں۔ 19 نومبر 1972ء کو ان کی وفات ہوئی۔سلام مچھلی شہری کی بہت ساری غزلوں کو موسیقی کا جامہ پہنایا گیا۔ جگجیت سنگھ جیسے مشہور غزل گائیکوں نے ان کی غزلوں کو اپنی آواز دی۔ انہوں نے اردو میں سانیٹ بھی لکھے ہیں۔ وہ ترقی پسند تحریک کے بہت متحرک کارکن تھے۔ ایک مراٹھی مضمون "گیت یاترے" میں مادھو موہولکر نے لکھا کہ فیض احمد فیض، اسرار الحق مجاز، جذبی، سلام مچھلی شہری، ساحر لدھیانوی اور دیگر شعرا نے اردو ادب میں ترقی پسند شاعری کے ایک نئے دور کا آغاز کیا ہے۔ سلام مچھلی شہری اور جانشین داغ عبد المتین مچھلی شہری مچھلی شہر کے دو سب سے مشہور شعرا ہیں جنھوں نے معاصر اردو شاعری میں ناقابل فراموش اثرات چھوڑے۔ سلام مچھلی شہر ی پدم شری سے بھی نوازے گئے تھے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR