Skip to content
امید فاضلی امید فاضلی

اے دل خود نا شناس ایسا بھی کیا

اے دل خود نا شناس ایسا بھی کیا آئینہ اور اس قدر اندھا بھی کیا اس کو دیکھا بھی مگر دیکھا بھی کیا عرصۂ خواہش میں اک لمحہ بھی کیا درد کا رشتہ بھی ہے تجھ سے بہت اور پھر یہ درد کا رشتہ بھی کیا زندگی خود لاکھ زہروں کا تھی زہر زہر غم تجھ سے مرا ہوتا بھی کیا پوچھتا ہے راہرو سے یہ سراب تشنگی کا نام ہے دریا بھی کیا کھینچتی ہے عقل جب کوئی حصار دھوپ کہتی ہے کہ یہ سایہ بھی کیا اف یہ لو دیتی ہوئی تنہائیاں شہر میں آباد ہے صحرا بھی کیا خود اسے درکار تھی میری نظر خود نما جلوہ مجھے دیتا بھی کیا رقص کرنا ہر نئے جھونکے کے ساتھ برگ آوارہ ہے یہ دنیا بھی کیا خندہ زن غم پر خوشی پر اشک بار ان دنوں یارو ہے رنگ اپنا بھی کیا بے تب و تاب شعاع آگہی عشق کہیے جس کو وہ شعلہ بھی کیا گاہے گاہے پیار کی بھی اک نظر ہم سے روٹھے ہی رہو ایسا بھی کیا اے مری تخلیق فن تیرے بغیر میں کہ سب کچھ تھا مگر میں تھا بھی کیا نغمۂ جاں کو گراں گوشوں کے پاس نارسائی کے سوا ملتا بھی کیا
امید فاضلی

امید فاضلی

View profile

امید فاضلی ( 17 نومبر 1923ء۔ 29 ستمبر 2006ء ) کا شمار پاکستان کے نامور شاعروں اور مرثیہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ارشاد احمد فاضلی المعروف امید فاضلی 17 نومبر 1923 کو ڈبائی، بلندشہر ضلع، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔والد کا نام سید محمد فاروق حسن فاضلی تھا۔ڈبائی سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد میرٹھ گئے جہاں سے میٹرک کیا ازاں بعد علی گڑھ محمڈن کالج اور یونیورسٹی سے گریجویشن کیا اور پھر 1940 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے گریجویشن کیا۔1944 ء میں وہ کنٹرولر آف ملٹری اکاونٹس کے محکمے سے وابستہ ہوئے۔ 1952ء میں پاکستان آ گئے اور کراچی میں مستقل قیام کیا۔ ملٹری اکاؤنٹس کے ادارے میں ہی خدمات انجام دینے کے بعد ریٹائرڈ ہوئے۔ اس وقت کراچی کے ایک مجلہ سیپ کے مدیر نسیم درانی صاحب نے جب الفاظ کا اجرا کیا تو ریٹائرڈ شاعر و ادیب امید فاضلی کو اس کی ادارت سونپ دی۔مید فاضلی نے شاعری کی ابتدا 15 برس کی عمر میں کی، پہلے شکیل بدایونی اور پھر نوح ناروی سے شرف تلمذ حاصل رہا۔ ابتدا میں وہ امید ڈبائیوی کے نام سے شاعری کرتے تھے بعد ازاں انہوں نے امید فاضلی کا قلمی نام اختیار کیا۔ امید فاضلی کی ابتدائی شہرت غزل سے ہوئی۔ تاہم بچپن سے مرثیہ خوانی کرنے کے باعث انہوں نے 1949ء سے مرثیہ گوئی کے میدان میں اپنا قلم رواں کیا اور ملک گیر شہرت پائی۔ امید فاضلی نے فنِ شاعری میں ہر صنفِ سخن میں طبع آزمائی کی۔ غزل، نظم، سلام، نوحہ، حتی کہ گیت بھی لکھے۔ ان کے کئی اشعار ضرب المثل کا درجہ رکھتے ہیں۔28 اور29 ستمبر 2005ء کی درمیانی شب اردو کے ممتاز شاعر امید فاضلی کراچی میں وفات پاگئے۔ کراچی میں سخی حسن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR