Skip to content
دلاور فگار دلاور فگار

لوڈ شیڈنگ میں سہاگ رات

بجلی دراصل شہر میں انجام ہجر ہے یعنی سہاگ رات میں پیغام ہجر ہے شادی ہوئی کس کی جو میرے قریب میں کالی سہاگ رات‘‘ لکھی تھی نصیب میں جس روشنی میں شادی ہوتی تھی چلی گئی اٹھا نقاب حسن تو بجلی چلی گئی دولہا ابھی تھا منتظر منظر جمال آیا نہ ’’واپڈا‘‘ کو کنوارے کا کچھ خیال دونوں کے درمیان جفا کار بن گیا یہ واپڈا سماج کی دیوار بن گیا مشعل نہ تھی چراغ نہ تھا اور دیا نہ تھا پہلے سے بیوقوف نے ماچس لیا نہ تھا جیسے کہ تار کول چمکتا ہو دھوپ میں گوری دکھائی دیتی تھی کالی کے روپ میں دل بجھ رہا تھا کشمکش انتظار سے جیسے کہ یہ بھی جلتا ہو بجلی کے تار سے پنکھا بھی تھا سکون میں ’’اے۔ سی‘‘ بھی بند تھا گدا بھی مولٹی فوم کا گرمی پسند تھا جدت شب وصال میں گویا جلا کی تھی گرمی وہاں بلا کی نہیں کربلا کی تھی اک ہاتھ دوجے ہاتھ کو آتا نہ تھا نظر دولہا دلہن کو ڈھونڈ رہا تھا اِدھر اُدھر تاریکیوں میں تاج محل ڈھونڈتا تھا وہ بحر رجز میں بحر رمل ڈھونڈتا تھا وہ دولہا میاں سو ہجر کی تنہائیوں میں تھے مچھر دلہن کے خاص شناسائیوں میں تھے رخسار ناک ہونٹ کے وہ قدر داں تھے مچھر ہر اعتبار سے پورے جوان تھے موقعہ جہاں جہاں بھی لگا کاٹتے رہے معجون حسن جتنی ملی چاٹتے رہے دولہا سے مچھروں کا شدید انتقام تھا مچھر وہ کررہے تھے جو دولہا کا کام تھا مچھر کو اقتدار حکومت کا جوش تھا اور حزب اختلاف کا قائد خموش تھا اس کشمکش میں صبح کا آغاز ہوگیا دولہا غریب ہجر کی چوکھٹ پہ سو گیا جب آسماں پہ صبح کی تنویر چھا گئی سورج ہوا طلوع تو بجلی بھی آگئی
دلاور فگار

دلاور فگار

View profile

دلاور فگار پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو زبان کے نامور مزاحیہ شاعر، نقاد اور ماہر تعلیم تھے۔ ان کا اصل نام دلاورحسین تھا۔دلاور فگار 8 جولائی، 1929ء کوبدایوں، میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ہندوستان کے سب سے بڑے صوبے اتر پردیش (یو پی) کے مشہور و معروف مردم خیز قصبے بدایوں کے ’حمیدی صدیقی‘ خاندان میں ماسٹر شاکر حسین کے گھر آنکھ کھولی۔ والد مقامی اسکول میں استاد تھے۔انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم بدایوں میں حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے آگرہ یونیورسٹی سے ایم اے (اردو) کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے علاوہ انھوں نے ایم اے (انگریزی) اور ایم اے (معاشیات) کی اسناد بھی حاصل کیں۔ 1968ء میں کراچی ہجرت کر کے ائے۔لاور نے شعر گوئی کا آغاز 14 برس کی عمر میں 1942ء میں کیا۔ انہیں مولوی جام نوائی بدایونی اور مولانا جامی بدایونی نامی اساتذہ کی رہنمائی ملی تھی۔21 جنوری 1998ء کو دلاور فگار کا انتقال ہو گیا۔[3] انھیں کراچی کے پاپوش نگر کے قبرستان میں آسودہء خاک کیا گیا۔حکومت پاکستان نے ان کی وفات کے بعد انہیں صدارتی تمغہ حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR