Skip to content
دلاور فگار دلاور فگار

رشوت خور سرکاری ملازمین

ایسے گیلپ سروے کو ہم کہہ نہیں سکتے دروغ جو یہ کہتا ہے کہ اب رشوت کو حاصل ہے فروغ ہم بھی کہتے ہیں کہ سچ ہے آج یہ سروے ضرور ایک چوتھائی ملازم ہیں یہاں رشوت سے دور ایک چوتھائی میں بھی وہ لوگ ہیں دس فیصدی جو کرپشن کو اصولاً بھی سمجھتے ہیں بدی وہ اصولوں کے سبب سے بات کہتے ہیں کھری عصمت بی بی نہیں ہے ان کو از ''بے چادری'' باقی ایسے لوگ بھی رحمت ہیں اپنے دور پر جو کرپشن کے لئے انفٹ ہیں طبی طور پر وہ صلاحیت جو ہے شرط ایک رشوت خور میں اس کی ہے بے حد کمی ان کے دل کمزور میں سو میں دس ایسے بھی سرکاری ملازم ہیں غریب جس ادارے میں وہ نوکر ہیں وہ خود ہے بد نصیب پے تو پابندی سے ملتی ہے مگر ال پیڈ ہیں پوسٹ آفس میں ہیں افسر ڈاکیوں کے ہیڈ ہیں یہ منی آرڈر ہیں یہ بیمے خطوط اور پارسل صرف اک تنخواہ پوری ڈاک کا نعم البدل ریلوے میں جو ملازم ہیں وہ ہیں چلتے ہوئے دیکھتے ہیں خود بھی اپنا آشیاں جلتے ہوئے سبز سگنل ہوتا ہے یا سرخ بتی جلتی ہے ریل کے ہمراہ رشوت کی بھی گاڑی چلتی ہے محکمے وہ بھی تو ہیں جو توڑ دیتے ہیں مکان ان کو رشوت خوب ملتی ہے یہ ہے قدرت کی شان محکمے وہ بھی ہیں جو ہیں پاسباں قانون کے پاکیٔ داماں میں دھبے دیکھتے ہیں خون کے مجرموں سے ملتے جلتے نام ہیں ان کو پسند تھی خطا ''عنبر'' کی لیکن کر دیا ''قنبر'' کو بند محکمہ وہ بھی ہے جس کے رعب سے ڈرتا ہے شہر اس کی رگ رگ میں سرایت کر گیا رشوت کا زہر ایک ملازم وہ بھی ہے تدریس جس کا فرض ہے جتنی پے ہے اس کی کچھ اس سے زیادہ قرض ہے ایکسائز اور کسٹم سے سبھی کو پیار ہے اس جگہ خادم فری سروس کو بھی تیار ہے یوں بھی اک دفتر نے مجھ پہ خوف طاری کر دیا بل رقیبوں کا تھا میرے نام جاری کر دیا اب وہاں چلئے جہاں ویگن کھڑے ہیں مال کے خوب رشوت چل رہی ہے معرفت دلال کے میٹرالوجی کو رشوت بھی نہیں دیتا کوئی لوگ برہم ہیں کہ بے نوٹس کے بارش کیوں ہوئی کیسا دفتر ہے جو فیوچر کو بنا دیتا ہے پاسٹ ابر کل برسا تھا لیکن آج کی ہے فورکاسٹ اور اداروں سے نہیں ملتا جو دفتر میٹ کا اس لئے دربان بھی غائب ہے اس کے گیٹ کا میٹرالوجی کا افسر بھی بڑی مشکل میں ہے وہ یہاں موسم نہیں ہے جو وہاں فائل میں ہے میٹ آفس نابلد ہے چونکہ کچھ اوصاف سے لوگ رشوت مانگتے ہیں میٹ کے اسٹاف سے
دلاور فگار

دلاور فگار

View profile

دلاور فگار پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو زبان کے نامور مزاحیہ شاعر، نقاد اور ماہر تعلیم تھے۔ ان کا اصل نام دلاورحسین تھا۔دلاور فگار 8 جولائی، 1929ء کوبدایوں، میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ہندوستان کے سب سے بڑے صوبے اتر پردیش (یو پی) کے مشہور و معروف مردم خیز قصبے بدایوں کے ’حمیدی صدیقی‘ خاندان میں ماسٹر شاکر حسین کے گھر آنکھ کھولی۔ والد مقامی اسکول میں استاد تھے۔انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم بدایوں میں حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے آگرہ یونیورسٹی سے ایم اے (اردو) کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے علاوہ انھوں نے ایم اے (انگریزی) اور ایم اے (معاشیات) کی اسناد بھی حاصل کیں۔ 1968ء میں کراچی ہجرت کر کے ائے۔لاور نے شعر گوئی کا آغاز 14 برس کی عمر میں 1942ء میں کیا۔ انہیں مولوی جام نوائی بدایونی اور مولانا جامی بدایونی نامی اساتذہ کی رہنمائی ملی تھی۔21 جنوری 1998ء کو دلاور فگار کا انتقال ہو گیا۔[3] انھیں کراچی کے پاپوش نگر کے قبرستان میں آسودہء خاک کیا گیا۔حکومت پاکستان نے ان کی وفات کے بعد انہیں صدارتی تمغہ حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR